صاحبو! خدا کی تقسیم کسی کی سمجھ میں نہیں آئی۔ اس کی مصلحت کون جانے؟ یہی حال یہاں کے خود ساختہ خداؤںکا ہے۔ میں پچھلے آٹھ ماہ سے غور کر رہا ہوں، آپ بھی آج ہی غور کیجیے کہ یہ جنوبی پنجاب وہ علاقہ ہے جہاں سے ہمہ وقت پاکستان کی قومی سیاست کے ستونوں کا وجود رہتا ہے۔ پاکستان کی سیاست کے کئی بڑے نام جیسے؛ غلام مصطفی کھر ، نوابزادہ نصراللہ خان، یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی، حنا ربانی کھر، سردار لطیف کھوسہ، سردار فاروق لغاری، سردار اویس لغاری، جاوید ہاشمی اور ایسے کئی دوسرے قد آور نام جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ صاحبان ایک یا دوسری صورت پاکستان کی سیاست کے کلیدی کردار رہے ہیں اور ان عہدوں پر فائز ہوئے جن پر ملک کے کئی حصوں کے لوگ بس تمنا کرتے ہیں مگر صاحبو یہاں پر ترقی نام کی وہ شے بھی دکھنے کو نہیں ملتی جو کئی ایسے علاقوں میں نظر آتی ہے جہاں کے صرف ایم این اے اور ایم پی اے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے۔ صاحبو، یہ بہت عجب بات ہے کہ ہم غربت کا رونا روتے ہیں، اور اظہار ہمدردی بھی جتاتے ہیں مگر بتائیے تو زرا کہ اس میں کس کا واقعی قصور ہے؟
اپنے وزیر اعظم صاحب نے ملتان شہر میں فلائی اوورز، اور شہر سے باہر بھاری ٹریفک کے لیے متبادل سڑکوں کا جال پھیلا دیا ، مگر تھوڑی دور مظفر گڑھ کی ایسی یونین کونسلیں بھی ہیں جہاں آج بھی کھانے کو صرف ایک وقت کا کھانا میسر ہے، وہ بھی صرف جزوی بھوک مٹانے کے جتنا۔ ڈیڑھ سال پہلے تک یہ خیال تھا کہ ملتان شہر میں اب گیلانی کے امیدوار کو شاید ہی کوئی ہرا سکے اور شاہ محمود قریشی صاحب اسی خوف سے پیپلز پارٹی سے چمٹے رہے ۔۔۔ یہاں تک کہ سرائیکی صوبے کا نعرہ بلند ہوا۔ ملتان شہر میں بہایا گیا سارا خرچہ دھرے کا دھرا رہ گیا اور انھی فلائی اوورز پر چند دن پہلے میں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں سے بھری بسیں دیکھیں جو اس جلسے میں شریک ہونے آئے تھے جس کا نعرہ جنوبی پنجاب کے لیے صوبہ حاصل کرنا تھا۔ صاحبو، اتنا کچھ بدلا سرائیکی صوبے کے نعرے نے ،کہ شاہ صاحب کو اتنی ہوشیاری آ ہی گئی کہ ان کا گزارہ پیپلز پارٹی کے سوا بھی ہے۔ وہ شاہ، گیلانی اور سردار نوابزادے جو دو سال پہلے تک صوبے کے انتہائی خلاف تھے، آج اس کے علمبردار بننے پر مجبور ہیں۔ اپنے، گیلانی صاحب یقینا ملتان کے فلائی اوورز کو دیکھ کر خون کے آنسو روتے ہوں گے۔ اتنا روپیہ شاید ان کی اگلی دو تین نسلوں کے لیے کافی رہ سکتا تھا۔
ملتان سے باہر نکلیے، تو حال اور ہے۔ ضلع مظفر گڑھ کا درمیانی علاقہ تھل ہے جہاں قحط کا خطرہ جبکہ وہ علاقے جو دو اطراف سے دریائے چناب اور دریائے سندھ سے متصل ہیں وہاں ہر وقت سیلاب کا ڈر طاری ہے۔ سکولوں میں بچے نہیں بھینسیں پائی جاتی ہیں اور بنیادی سہولیات تک رسائی تو دور کی بات، بنیادی حقوق بھی سلب ہیں۔ سیلاب کے بعد ہونے والے امدادی کاموں میں جو "شیلٹر" جس کی قیمت کوئی تیس ہزار روپے بنتی ہے، کے بارے لوگوں سے معلوم کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ انھیں "پکا" گھر میسر آ گیا ہے اور ایسا گھر شاید وہ اپنی پوری زندگی محنت کر کے تعمیر نہ کر پاتے۔ اسی طرح ایک خاتون، جنھیں چند مرغیاں پالنے کو دی گئی تھیں سے ان کے گھرکی معیشت پر ان مرغیوں سے پڑنے والے مثبت اثرات بارے دریافت کیا گیا تو اس خاتون کا جواب چونکا دینے والا تھا کہ،
"خان صاحب، پہلاں میرے گھار ،ڈیوار چ ہکو ٹیم سالن ہوندا ای، ہن میرے بالاں واسطے ڈوھ ٹیم کھاون دا بندوبست تھی ویندے"
(خان صاحب، پہلے میرے گھر میں دن میں ایک وقت کا سالن پک پاتا تھا، اب میرے بچوں کے لیے دو وقت کے کھانے کا بندوبست ہو جاتا ہے)۔
گندم یہاں کی اصل زر ہے۔ جس کے گھر میں سال بھر کے راشن کو گندم میسر ہے، وہ بادشاہ ہے ، اور یہاں بادشاہ صرف سید بادشاہ ہیں یا پھر سردار/نواب صاحبان۔ یہاں خواتین دن بھر مشقت کرتی ہیں، اور گھر کی بیگار الگ۔ کپاس کی چنائی کے ان کو دن بھر کی محنت کے ساٹھ سے اسی روپے دیہاڑی اجرت ملتے ہیں، اور مرد حضرات کو بمشکل ڈیڑھ سو روپے دیہاڑ ملتی ہے جسے یہ "تازی مزدوری" کے نام سے پکارتے ہیں۔ تازی مزدوری مل گئی تو شام کو شکم سیر ہو کر بلے بلے، ورنہ بھوک سے بلبلاتے بچوں سمیت اس خاندان کی جو "ہائے" نکلتی ہے، مجھے نہیں معلوم خدا ان کو کس پر گرانے کو محفوظ کرتا جا رہا ہے۔