کسی ڈینیل کارنیگی قسم کے ماہر نفسیات نے لکھا کہ غصہ، ذہنی دباؤ یا اسی قماش کی کسی بھی حالت میں بہترین حل یہ ہے کہ بندہ الٹی گنتی گنے۔ بدقسمتی سے ایسا کرنا میرے لیے انتہائی مشکل ہے، ایسے وقت میں الٹی کیا مجھے تو سیدھی گنتی بھی یاد نہیں رہتی۔ اس سے کم از کم یہ ضرور ثابت ہے کہ دباؤ یا غصہ کی حالت میں مجھے اپنے اعصاب پر قابو نہیں رہتا۔ ہاں، خوف بہرحال واحد کیفیت ہے جو مجھے ایسی حالت میں بھی کسی انتہائی اقدام سے دور رکھتی ہے، اور غصہ میں بھی میں زیادہ تر بس اندر ہی اندر بھنبھنا کر رہ جاتا ہوں۔
مدعا یہ تھا کہ لوگ شاید غصے یا ذہنی دباؤ میں گنتیاں گنتے ہوں، لیکن میں غصے کی حالت میں صرف غصہ کھاتا ہوں یا پھر مجبوراََ خوف کھاتا ہوں۔ مثلاََ کسی بھی شخص پر غصہ ہے تو خدا کا خوف آڑے آ ہی جاتا ہے، ورنہ اگلے بندے کی عمر، حیثیت، علم، زبان اور جسمانی قوت/شر کا خوف کہیں گیا نہیں۔ یہ بتانا ضروری ہے کہ مجھے سب سے زیادہ خوف ان اشخاص سے آتا ہے جو ایک لمحے میں آپ کی عزت نفس تار تار کر دیں، اس میں ہر طاقتور، کمزور، عالم، جاہل، چھوٹے، بڑے، مرد، خواتین غرض ہر طرح کے افراد شامل ہیں۔
افسوسناک پہلو جو اس تحریر کا موجب بنا کہ پچھلے کچھ عرصہ (جامعہ سے فراغت کے بعد سے) میں نے غصہ بہت کھایا ہے، اور اس سے بھی زیادہ یہی کڑوا غصہ خوف کی مدد سے پیا ہے۔ اب خوف میری نس نس میں بھرچکا، اتنا خوف کہ بتانا محال۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ اب مجھے تقریباََ ہر انسان سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ بینکوں، ڈاکخانوں، سرکاری محکموں کے دفاتر، مساجد جیسے بے ضرر مقامات پر موجود انسانوں سے خوف ہے، تھانے، کچہری کی تو بات ہی مت کیجیے۔ کلرکوں کے بدتمیز رویے کا خوف اور اپنے دفتر میں موجود لوگوں کا خوف۔ یقین جانیے، میں اس خوف کے ہاتھوں اب اتنا سٹپٹا گیا ہوں کہ اب اپنے باس سے بھی بات کرتے ہچکچانے لگا ہوں۔