تجسس

انسانی شخصیت کا عجب پہلو تجسس ہے، کسی معاملے یا شے بارے اس کا تجسس ہی اس کو اہم بنا دیتا ہے۔ دنیا کے کامیاب لوگوں نے اس ہتھیار بے پایاں کا خوب استعمال کیاہے، عیار و مکار مداریوں کی مانند!۔
عموما ہر مداری کے سامنے زمین پر پٹارہ دھرا ہوتا ہے، جس میں ایک نام نہاد سانپ پڑا رہتا ہے، نام نہاد یوں کہ مداری جو خصوصیات اس سانپ کی بیاں کرتا ہے وہ وصف اس بے کمال سانپ میں کبھی پائے ہی نہیں جاتے، بلکہ وہ دو چار خصلتیں جو اس بے چارے کو قدرت نے عطاکر رکھی تھیں، وہ بھی مداری کے پیٹ کی بھینٹ چڑھ چکتی ہیں۔
 میں نے زندگی میں کئی مداری اور ان کے کمالات دیکھے ہیں، لیکن چند دن پہلے کافی عرصے بعد تماشہ دیکھنے کا موقع ملا، یادیں تازہ کرنے اس مداری کے ارد گرد جمع لوگوں کے ہجوم میں جا کھڑا ہو۱۔ مداری ایک ایسا شعبدہ باز تھا، جس کے چہرے، چال ڈھال، اور گفتگو سے عیاری برس رہی تھی۔ تیز طرار نگاہیں تمام مجمع کا طواف کر رہی تھیں۔ ہاتھ ہلانے کا انداز بالکل کسی سانپ کی لہراتی پھن کی مانند، اور الفاظ گویا تجسس کے زہر میں تر کیے ہوئے!۔ سانپ کے پٹارے میں تو خدا جانے کیا تھا، البتہ مداری بجا طور پر تجسس کا لہراتا، پھنکارتا سانپ محسوس ہوا۔ مداری کا دعوٰی تھا کہ پٹارے کا سانپ، بے پناہ قوت کا حامل ہے۔ گو پٹارہ کمزور ہے مگر یہ مداری کی مہارت، علم اور تجربہ تھا کہ اس نے سانپ کو پٹارے تک محدود رکھ چھوڑا تھا۔ سانپ طاقتور تو تھا ہی، اس کے علاوہ بھی یہ کئی خوبیوں کا حامل تھا۔ مثلاً زہریلا ہونے کے ساتھ ساتھ، وہ سانپ اڑ بھی سکتا تھا، اور کمال یہ کہ وہ صرف اڑتے ہوئے ہی کاٹتا تھا۔ سانپ کا زہر نقصان دہ تھا، مگرصرف کاٹتے ہوئے، کئی بیماریوں کا علاج بہرحال اس نسل کی خاصیت تھی، مثلاً کالا یرقان، لیکوریا، جوڑوں کا درد، درد قولنج اور نہ جانے کیا کیا، سب سے اہم علاج جس کے لیے قدرت نے اس نسل کے سانپ کو گویا دھرتی پر رینگنے کو رکھ چھوڑا تھا وہ لےدے کے جنسی بیماریوں کا علاج تھا۔ جنسی بیماریوں کے علاج بارے سن کر اکثر تماشبینوں کا تجسس حدوں کو چھونے لگا،کم عمرنوجوانوں اور عمر رسیدہ تماشبینوں کی دلچسپی یکدم بڑھ گئی!۔
 ہر شخص حیران تھا، میرے پہلو میں کھڑا ہر شخص یقیناً یہ جانتا تھا کہ پٹارے میں کس قماش کا سانپ ہے، تجسس بہر حال ان کو نگل چکا تھا۔ پٹارے کا سانپ تو بعد میں باہر آیا، چند ہی ساعتوں میں مداری کی چکنی چپڑی تجسس بھری باتوں نے تمام مجمع کو سانپ کی طرح یکدم سے نگل لیا۔ مداری کا کمال تھا کہ،لوگ تجسس بھرے سناٹے میں آ گئے۔ لیکن جب لوگوں کو پٹارے کے سانپ کی حقیقت پتہ چلی، تجسس کے اژدھا نے یکدم ہی تمام لوگوں کو واپس اگل دیا، جیسے ایک دیوھیکل اینا کونڈا شکار کو نگلنے کے بعد اگل دے، وہ سارا مجمع اگلا ہو ا شکار دکھائی دیا، مجھ سمیت ہر شخص تجسس کے بدبودار بھبھوکوں میں لپٹا تھا۔ لیکن سانپ باہر لانے سے پہلے مداری نے لوگوں کو حسب توفیق لوٹنا شروع کیا، یعنی اپنی باکمال 
دوائی جو بقول اس کے اس کرہ ارض پر پائی جانے والی ہر بیماری کا علاج تھی، کی معقول قیمت وصول کرنا مناسب سمجھا۔ اب، جبکہ پٹارے کا سانپ باہر آچکا تھا، مجھے بڑی مایوسی ہوئی، وہ خصلت میں کسی طور بھی سانپ نہ تھا، بلکہ مجھے تو وہ باقاعدہ ساون کے موسم میں اکثر دیکھے جانے والے کیڑے کی مانند محسوس ہوا۔ مداری کو اس سے چنداں دلچسپی نہ تھی کہ لوگ اس کے اور سانپ نما کیڑے کے بارے کیا رائے رکھتے ہیں، وہ اپنی عیاری کی معقول قیمت بہر حال وصول کر چکا تھا۔
 اس مداری جیسی خصوصیت دنیا میں پائے جانے والےکثیر التعداد نام نہاد سیاستدانوں، سرمایہ داروں، حکمرانوں، عالموں، دانشوروں میں آپ کو نظر آئے گی۔ جو لوگوں کی نہ صرف خوش گمانیوں بلکہ بدگمانیوں کا بھر پور استعمال کر کے تجسس کے منہ ذور ہتھیار کےبل بوتے قابل قبول نفع وصول کرتے ہیں۔ ایک عام آدمی کو عام بنانے والی یہی کمی ہے، مثلاً میری ہی مثال لے لیں، میں ایک عام آدمی ہوں، میں اپنے اور اپنے کسی قول، فعل  یا میرے متعلق کسی معاملہ بارے، کسی بھی بدگمانی سے گھبرا جاتا ہوں اور لوگوں کی میرے یا مجھ سے متعلق کسی بھی معاملے میں خوش گمانی، الٹا مجھے ہی متجسس کر دیتی ہے۔ میرے جیسے ہرعام آدمی کا حال پٹارے کے سانپ جیسا ہے، جس کی خصوصیات اور قابلیت مداری کے مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں، اور لوگ بھلے اس کے بارے خوش گمانیاں پالیں یا بدگمانیاں، منافع بہر حال مداری کو پہنچتا رہتا ہے!۔

تبصرہ کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں

خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔

خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔

بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

قافلۂ نکہت غم

غم انسان کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ یہ غم نہیں ہوتے  بلکہ غم کا احساس ہوتا ہے، جو توڑ پھوڑ دیتا ہے۔ غم کا احساس شعور کے ساتھ بیدار ہوتا ہے اور یکدم ، آپ کے آپ سامنے آن کھڑا ہوتا ہے۔ غم ایسے توڑتے ہیں کہ دیکھتے ہی دیکھتے بندہ   ریزہ ریزہ  ہو کر ایسے بکھرتا  چلا جاتا ہے کہ اپنے ذرات اسے مٹی میں ملے، اسی کے رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کوئی وجود نہیں تھا بلکہ خلا ہی خلا ہے، جو ازل سے یہیں تھا اورابد تک برپا  رہے گا۔
پہلی بار غم کا احساس اپنے ابا کے مرنے کے تیسرے روز  تب ہوا ، جب میری عمر بمشکل گیارہ برس تھی۔  رات کو لیٹتے ہی ایکدم تڑاخ سے میرا اندر تڑک گیا، میرا سینہ ایسے بوجھل ہو گیا جیسے شیشہ چٹخ جائے تو تڑخے ٹکڑوں کا بوجھ ایک دوسرے پر پڑتا ہے۔ غم کا پہلا احساس تھا جو میرے ساتھ گیارہ برس کی عمر میں برپا ہوا اور  آج بھی جوں کا توں میرے سینے پر استادہ ہے۔   اچانک ایک ٹیس اٹھتی ہے اور غم کا احساس بوند بوند گرنے لگتا ہے، یہ غم اتنا شدید  ہوتا ہے کہ میں بوجھ سے دب کر گھنٹوں بے سدھ پڑا رہتا ہوں۔ پہلے پہل رو لیتا تھا تو من ایسے ہلکا ہو جاتا تھا جیسے پھول کی پتی ہو جائے، مگر جب سے  میری دنیا نے مجھے کولہو کا بیل بنایا ہے، رونا نہیں آتا اور یہ بوجھ بڑھ رہا ہے، ہر بار اس کے وزن میں منوں اضافہ ہو جاتا ہے۔ 
سب کے ساتھ ایسی واردات نہیں ہوتی، میں نے لوگوں کو دیکھا ہے۔ عورتیں جب غمناک ہوتی ہیں تو بین کر کے،  پھُوں پھُوں رو رو کر اپنا من ہلکا کر دیتی ہیں، کئی مرد آپے سے باہر ہو کر اونچی آواز میں اظہار کر گزرتے ہیں اور کئی ایسے ہیں جو پتہ نہیں کیسے، اپنے آپ کو سنبھالا دے پاتے ہیں۔ کئی غمناک لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ غم کی حالت میں ان کے چہرے پر وہ کرب ہوتا ہےکہ  ابھی کے ابھی  ان کا چہرے کی دراڑیں گہری ہوں گی اور سارا چہرہ بس  تڑکتا چلا جائے گا۔ 
غم ایک سے نہیں ہوتے، کہیں کیسے اور کبھی کسی روپ میں آن دبوچتے ہیں۔ عادت،  اس کے ساتھ مانوس کر دیتی ہے اورساتھ ساتھ غم کو سنبھالا دینے میں مہارت بھی عطا ہوتی  رہتی ہے۔ پہلے پہل میں ٹوٹ پھوٹ کر ادھر ادھر بکھر جاتا تھا، اور پھر عرصے تک خود کو سمیٹتا رہتا تھا، اب ایسا نہیں ہوتا۔ میں چٹختا ضرور ہوں مگر میرا وجود غم کے بوجھ تلے ایک ہی جگہ پر ریزہ ریزہ بن کر گرتا رہتا ہے،  واپس سمیٹنے میں خواری تو نہیں ہوتی مگر مزید ایک  کتبہ میرے اندر سج جاتا ہے، ایک اور دیوار گریہ نصب ہو جاتی ہے ۔ہر وقت میرے اندر،  ہر دیوار گریہ کے ساتھ  میرےوجود کا کوئی  نہ کوئی حصہ لپٹا  بوند بوند غم ٹپکاتا رہتا ہے۔
مجھے ہمیشہ ایسے لگتا ہے کہ جو غم کے سنگ میرے اندر نصب ہیں، وہ مجھ سے زیادہ دوسروں سے وابستہ ہیں۔ میری اپنی ذات ان غموں  گہری پاتال میں  کہیں دور گم ہے۔ مجھے میرے ابا کا ہر سُو غم رہتا ہے، مجھے غم جاناں بھی درپیش ہو گا، اور میں اس دنیا کے  حال پر بھی غم ٹپکاتا ہوں۔مجھے اپنے لیے کوئی غم نہیں، میری ذات خوش باش ہے، میں ہر حال میں زندہ ہوں میں ہر دور میں شکر گزار ، یقین کیجیے میں اپنے آپ کو بھلا سکتا ہوں مگر میرے ارد گرد کے میرے پیارے، ان کے غم میں بھلا نہیں پاتا۔ لوگوں کے بچھڑنے کا غم سب سے مہلک ثابت ہوا ہے۔ بچھڑنے والوں کی فہرست بہت طویل ہے، اور ان میں سے ہر شخص نے میرے اندر غم کا حال برپا کیا ہے۔ انسیت کی تعریف میری اپنی طے کردہ ہے اس لیے جن سے مانوس ہوں، ان سے ایک بار بچھڑ جاؤں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابد تک ان کی یاد میرے اندر ہی اندر مجھے بوجھل کرتی رہے گی۔ 
 ہر بار جب مجھے غم لاحق ہوتا ہے تو وہ مجھ سے تعلق تو ضرور رکھتا ہے مگر وہ خالصتاؐ مجھ سے وابستہ نہیں ہوتا، تجربات کا نتیجہ ہے  کہ اپنے لیے غم کو میں اتنا موقع کبھی فراہم نہیں کرتا ۔اس سے پہلے کہ غم مجھ کو فنا کرے، میں خود کو فنا کر دیتا ہوں۔ دوسروں کی بات اور ہے، میں دوجوں کے غم پیتا ہوں اور ان کو اپنے اندر جذب کرتا جاتا ہوں۔ ان کے  غموں کو، جو مجھ سے تعلق رکھتے ہیں، سمیٹ چکتا  ہوں تو وہ میرے اندر ایک ایسا  سنگ نصب کردیتے ہیں کہ وہ میرے وجود کا حصہ بن جاتا ہے۔ میں اس سے ہمہ وقت لپٹ کر اندر ہی اندر رو سکتا ہوں، اندر ہی اندر بار بار تڑخ سکتا ہوں اور بار بار بکھر کر پھر سے وجود کی شکل اختیار کر سکتا ہوں۔
صاحبان! اب  غموں کا یہ بوجھ بڑھتے بڑھتے اتنا بڑھ گیا ہے کہ مجھے صاف محسوس ہوتا ہے میں سکت نہیں رکھتا کہ میں مزید کچھ بوجھ برداشت کر پاؤں گا۔  بعض اوقات یہ بوجھ، یہ حال اس شدت سے برپا ہوتا ہے کہ مجھے کچھ سجھائی نہیں دیتا اور تب چڑ جاتا ہوں، الجھ پڑتا ہوں۔تب کے بعد، میں اب لوگوں سے دور بھاگتا ہوں۔ میرے دوست میرے فون پر گھنٹیوں پر گھنٹیاں کھڑکاتے رہتے ہیں، انٹرنیٹ پر پرانے دوست احباب ہر دوسرے ہفتے اپنی انٹرنیٹ پر   موجودگی کو تازہ کر کے پیش کر دیتے ہیں اور میں انہیں ٹال دیتا ہوں، اور جن کو میں اپنی موجودگی سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں ان کے ساتھ میں دیر تک بیٹھ نہیں سکتا، ان کی قربت مجھے اس غم میں مبتلا کر دیتی ہے کہ اگر کبھی وہ مجھے سے دور ہو گئے، بچھڑ گئے تو غم اور تکلیف نہایت شدید ہو گی، اتنی شدت کیا خبر میں برداشت کر پاؤں یا نہیں۔ ایسا ہوتا ہے کہ میں اجنبی بن کر ان کے سامنے بیٹھا رہتا ہوں ۔ ان پیاروں کے ساتھ ہوتے یہ خیال اتنا شدید ہوتا ہے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ مجھ  سے بچھڑ کر یا میرے اندر غم کا ستون نصب کریں، میں کرچ کرچ کر کے انھیں چبا ڈالوں، کھرچ کھرچ کر ادھیڑ ڈالوں۔مگر، جب  خلوت میں اپنے آپ سے ملتا ہوں تو اپنے پیاروں کے بارے میرے اندر شدت سے  ملال عود کر مجھے بے چین رکھتا ہے ۔ 
بازار میں لاتعلق گھومتا ہوں، اور ایک بے ثباتی کا اظہار کرتا ہوں۔ خبروں سے پرہیز  اور کوشش میں رہتا ہوں کہ کوئی اپنا حال مجھے نہ سنانے پائے اور ایسا کچھ ہو کہ کسی کو نظر نہ آؤں، بھاگ نکلوں اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھوں۔ کسی کو مدد چاہیے تو حسب توفیق، اس کا حال معلوم ہونے سے پہلے اس کی ہتھیلی پر دھر دوں ۔
صاحبان، مجھے قنوطی نہ سمجھیے۔ میرے پیارو، مجھے خود غرض نہ سمجھو۔ میرا خیال کرنے والو، مجھے بے پرواہ نہ سمجھو۔ میں بہت سوں سے بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں، ان کو سننا چاہتا ہوں۔ ان سے اپنے دل کا حال بیان کرنا چاہتا ہوں، مگر الجھ جاتا ہوں۔ سرفہرست، بی بی جی سے میں بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں، ان کو سننا چاہتا ہوں اور ان کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دینا چاہتا ہوں مگر ایسا ہو نہیں پاتا۔ ایسے ہی، میں ان کو جن سے محبت کرتا ہوں، برملا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔  دوستوں سے اپنا حال بیان کرنا چاہتا ہوں، اپنے پیاروں کو کھول کر سب بتا نا چاہتا ہوں  مگر نہ جانے کیا ہوتا ہے کہ پلٹ جاتا ہوں۔ پاس بیٹھ کر ٹُک ٹک منہ دیکھتا ہوں، خاموش رہتا ہوں۔  چیٹ باکس کھول کر، حال احوال پوچھ کرخالی سکرین کو دیکھتا رہتا ہوں،ایک دم لاتعلق ہو جاتا ہوں۔ ایسے میں، سکوت طاری ہوتا ہے اور میں بھاگ نکلتا ہوں، باہر نکل جاتا ہوں، اپنے کمرے میں دُبک جاتا ہوں یا انٹرنیٹ پر سائن آف ہو جاتا  ہوں۔ صاحبو! میں بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں، بہت سوں سے بہت کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اظہار کرنا چاہتا ہوں، احوال سنانا چاہتا ہوں، گلے کرنا چاہتا ہوں، معافی مانگنا چاہتا ہوں ،بے پناہ  محبت سمیٹنا چاہتا ہوں ، اور خود کو ان کی ہستی میں ایسے فنا کرنا چاہتا ہوں کہ میرا اپنا، میرے اندر کا بوجھ ہلکا ہو جائے، خالی خولی ہلکا پھلکا پن رہ جائے   مگر۔۔۔ بے بسی سی بے بسی ہے، بوجھ سا بوجھ ہے۔

تبصرہ کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں

خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔

خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔

بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

جنوبی پنجاب میں۔۔۔: خود ساختہ خدا

ایک واقعہ ایسے ہے کہ چند دوست جو دوسرے شہر سے تشریف لائے تھے، میزبان کے ساتھ شہر میں مٹر گشت کر تے ہوئے  ایک چوک میں پہنچے۔ چوک کی نکڑ پر اخبار کے کھوکھے پر ہجوم سا جمع تھا۔ ایک شخص عین بیچ سگریٹ سے شغل کر رہا تھا اور چند معدودے اس کے ارد گرد جمع تھے۔ راستے سے گزرتے ہر دوسرا شخص اس بیچ بازار بیٹھے شخص کو سلام دعا کرتا، عرض ہوتی تو گزار کرتا اور آگے بڑھ جاتا۔ کئی اس کو دیکھ کر بغیر کوئی توجہ دلائے آگے بڑھ جاتے۔ دوستوں نے اس شخص بابت دریافت کیا تو میزبان نے بے توجہی سے جواب دیا کہ یہ ہمارے علاقے کے صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں اور دور سے ہی رسمی سا سلام گزار کرتے ہوئے دوستوں کی توجہ گردوارے کی جانب مبزول کروا دی جہاں آج کل میونسپل لائبریری قائم ہے۔
یہ ہزارہ کے ایک شہر کی کافی پرانی بات ہے، اور یہاں آج بھی یہی رواج ہے۔ ہزارہ  ڈویژن مسلم لیگ (ن) کا گڑھ سمجھا جاتا ہے مگر میرے شہر میں اس جماعت کے ایک ایسے بھی ریٹائرڈ جرنیل صاحب ہیں جو ہر بار صرف اس ایک وجہ سے ہار جاتے ہیں کہ وہ اپنی ناک پر مکھی نہیں ٹکنے دیتے، ورنہ مسلم لیگ کا نام اپنا رنگ دکھاتا ہی ہے۔ مدعا یہ تھا کہ، جنوبی پنجاب میں ایسا اب بھی نہیں ہوتا۔ اسمبلیوں کے اراکین جب فتح کی خبر سنتے ہیں تووہ نعوذ باللہ خدا کے عہدے پر فائز ہو جاتے ہیں۔ وہ خدا جو مخلوق نے اپنے سر خود جن دیے۔ بیلٹ بکس کھلا نہیں اور جیتنے والے نے اپنا عرش سجا لیا۔  دہریوں کے لیے خدا کا ہونا، نہ ہونا برابر ہوتا ہے اور یہ بیلٹ باکس کا کرشمہ ہے کہ دہریوں کو بھی خواہ مخواہ خدا میسر آ جاتا ہے۔
صاحبو! خدا کی تقسیم کسی کی سمجھ میں نہیں آئی۔ اس کی مصلحت کون جانے؟ یہی حال یہاں کے خود ساختہ خداؤںکا ہے۔ میں پچھلے آٹھ ماہ سے غور کر رہا ہوں، آپ بھی آج ہی غور کیجیے کہ یہ جنوبی پنجاب وہ علاقہ ہے جہاں سے ہمہ وقت پاکستان کی قومی سیاست کے ستونوں کا وجود رہتا ہے۔ پاکستان کی سیاست کے کئی بڑے نام جیسے؛ غلام مصطفی کھر ، نوابزادہ نصراللہ خان، یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی، حنا ربانی کھر، سردار لطیف کھوسہ، سردار فاروق لغاری، سردار اویس لغاری، جاوید ہاشمی اور ایسے کئی دوسرے قد آور نام جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ صاحبان ایک یا دوسری صورت پاکستان کی سیاست کے کلیدی کردار رہے ہیں اور ان عہدوں پر فائز ہوئے جن پر ملک کے کئی حصوں کے لوگ بس تمنا کرتے ہیں مگر صاحبو یہاں پر ترقی نام کی وہ شے بھی دکھنے کو نہیں ملتی جو کئی ایسے علاقوں میں نظر آتی ہے جہاں کے صرف ایم این اے اور ایم پی اے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے۔ صاحبو، یہ بہت عجب بات ہے کہ ہم غربت کا رونا روتے ہیں، اور اظہار ہمدردی بھی جتاتے ہیں مگر بتائیے تو زرا کہ اس میں کس کا واقعی قصور ہے؟
اپنے وزیر اعظم صاحب نے ملتان شہر میں فلائی اوورز، اور شہر سے باہر بھاری ٹریفک کے لیے متبادل سڑکوں کا جال پھیلا دیا ، مگر تھوڑی دور مظفر گڑھ کی ایسی یونین کونسلیں بھی ہیں جہاں آج بھی کھانے کو صرف ایک وقت کا کھانا میسر ہے، وہ بھی صرف جزوی بھوک مٹانے کے جتنا۔ ڈیڑھ سال پہلے تک یہ خیال تھا کہ ملتان شہر میں اب گیلانی کے امیدوار کو شاید ہی کوئی ہرا سکے اور شاہ محمود قریشی صاحب اسی خوف سے پیپلز پارٹی سے چمٹے رہے ۔۔۔ یہاں تک کہ سرائیکی صوبے کا نعرہ بلند ہوا۔ ملتان شہر میں بہایا گیا سارا خرچہ دھرے کا دھرا رہ گیا اور انھی فلائی اوورز پر چند دن پہلے میں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں سے بھری بسیں دیکھیں جو اس جلسے میں شریک ہونے آئے تھے جس کا نعرہ جنوبی پنجاب کے لیے صوبہ حاصل کرنا تھا۔  صاحبو، اتنا کچھ بدلا سرائیکی صوبے کے نعرے نے ،کہ شاہ صاحب کو  اتنی ہوشیاری آ ہی گئی کہ ان کا گزارہ پیپلز پارٹی کے سوا بھی ہے۔ وہ شاہ، گیلانی اور سردار نوابزادے جو دو سال پہلے تک صوبے کے انتہائی خلاف تھے، آج اس کے علمبردار بننے پر مجبور ہیں۔ اپنے، گیلانی صاحب یقینا ملتان کے فلائی اوورز کو دیکھ کر خون کے آنسو روتے ہوں گے۔ اتنا روپیہ شاید ان کی اگلی دو تین نسلوں کے لیے کافی رہ سکتا تھا۔
ملتان سے باہر نکلیے، تو حال اور ہے۔ ضلع مظفر گڑھ کا درمیانی علاقہ تھل ہے جہاں قحط کا خطرہ  جبکہ وہ علاقے جو دو اطراف سے دریائے چناب اور دریائے سندھ سے متصل ہیں وہاں ہر وقت سیلاب کا ڈر طاری ہے۔  سکولوں میں بچے نہیں بھینسیں پائی جاتی ہیں اور بنیادی سہولیات تک رسائی تو دور کی بات، بنیادی حقوق بھی سلب ہیں۔  سیلاب کے بعد ہونے والے امدادی کاموں میں  جو "شیلٹر" جس کی قیمت کوئی تیس ہزار روپے بنتی ہے، کے بارے لوگوں سے معلوم کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ انھیں "پکا" گھر میسر آ گیا ہے اور ایسا گھر شاید وہ اپنی پوری زندگی محنت کر کے تعمیر نہ کر پاتے۔ اسی طرح ایک خاتون، جنھیں  چند مرغیاں پالنے کو دی گئی تھیں سے ان کے گھرکی معیشت  پر ان مرغیوں سے پڑنے والے مثبت  اثرات بارے دریافت کیا گیا تو اس خاتون کا جواب چونکا دینے والا تھا کہ،
"خان صاحب، پہلاں میرے گھار ،ڈیوار چ ہکو ٹیم سالن ہوندا ای، ہن میرے بالاں واسطے ڈوھ ٹیم کھاون دا بندوبست تھی ویندے"
(خان صاحب، پہلے میرے گھر میں دن میں ایک وقت کا سالن پک پاتا تھا، اب میرے بچوں کے لیے دو وقت کے کھانے کا بندوبست ہو جاتا ہے)۔
گندم یہاں کی اصل زر ہے۔ جس کے گھر میں سال بھر کے راشن کو گندم میسر ہے، وہ بادشاہ ہے ، اور یہاں بادشاہ صرف سید بادشاہ ہیں یا پھر سردار/نواب صاحبان۔ یہاں خواتین دن بھر مشقت کرتی ہیں، اور گھر کی بیگار الگ۔ کپاس کی چنائی کے ان کو دن بھر کی محنت کے ساٹھ سے اسی روپے دیہاڑی اجرت ملتے ہیں، اور مرد حضرات کو بمشکل ڈیڑھ سو روپے دیہاڑ ملتی ہے جسے یہ "تازی مزدوری" کے نام سے پکارتے ہیں۔ تازی مزدوری مل گئی تو شام کو شکم سیر ہو کر بلے بلے، ورنہ بھوک سے بلبلاتے بچوں سمیت اس خاندان کی جو "ہائے" نکلتی ہے، مجھے نہیں معلوم خدا ان کو کس پر گرانے کو محفوظ کرتا جا رہا ہے۔

تبصرہ کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں

خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔

خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔

بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

جنوبی پنجاب میں۔۔۔: ملتانی جغرافیہ

ملتان بڑا شہر ہے اور میں بڑے شہروں میں وحشت کا شکار ہو جاتا ہوں۔ یہاں میری زندگی بوسن روڈ تک محدود ہے اور اگر دائرہ وسیع کروں تو زیادہ سے زیادہ چوک کمہاراں جہاں سے میں ملتان سے رخصت یا یہاں وارد ہوتا ہوں۔ اس کے علاوہ، میرا اس شہر سے اگر ربط رہتا ہے تو وہ تمام شہر سے گزر کر فوجی چھاؤنی اور وہاں سے مظفر گڑھ، لیہ، ڈیرہ غازی خان یا پھر راجن پور کی جانب سفر ہوتا ہے۔ یہ سفر ہفتے میں کم از کم دو بار ضرور ہی ہوتا ہے۔
ملتان کو ناپنا ہو تو آپ کو چونگیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے، عام لوگ بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ میں چھ نمبر اور نو نمبر چونگی کے بیچ کے علاقے میں رہائش پذیر ہوں، چوک کمہاراں نو نمبر چونگی سے آگے چوک رشید آباد کے بالکل  دوسری جانب کی نکڑ پر واقع ہے اور اگر آپ چھاؤنی کی جانب جائیں تو آپ کو سات نمبر چونگی سے ہو کر جانا پڑتا ہے۔ چونگیاں کب کی ختم ہو گئیں مگر سنگ میل جوں کے توں قائم ہیں۔ اس لحاظ سے ملتان بائیس چونگیوں پر مشتمل ہے۔ بائیس چونگیاں میرے علم میں ہیں، شاید اس سے بھی زیادہ ہوں گی ویسے ہی جیسے ملتان شہر کا مخصوص رنگ ہی میں پچھلے آٹھ ماہ میں جذب کر پایا ہوں۔
آپ نے اگر سکولوں، کالجوں اور جامعہ کی بات کرنی ہے تو نو نمبر سے اس طرف چھ نمبر اور پھر شمالی بائی پاس تک کا علاقہ ناپ میں لائیے۔ اچھا سوہن حلوہ حسین آگاہی میں ملتا ہے، کشیدہ کاری اور رنگ برنگے کڑھائی والے لباس و دوپٹے بھی حسین آگاہی سے ہی مل پاتے ہیں۔ ملتان آرٹ کونسل اور نشتر کا علاقہ ایک ہے ، ڈیرہ اڈا میرے خیال میں گاڑیوں کے سامان کے لیے مشہور ہے اور  خواہ مخواہ رش میں پھنس کر وقت برباد کرنا ہے تو گھنٹہ گھر اور آس پاس کے بازاروں میں داخل ہو جائیے۔ گھنٹہ گھر  کے بالکل اوپر ایک پہاڑی سی ہے جسے قلعے کا نام دیا گیا ہے، حالانکہ وہاں قلعہ نہیں بلکہ ملتان کے مشہور مزارات ہیں اور ساتھ ہی ملتان کا پرانا کرکٹ اسٹیڈیم واقع ہے۔  ملتان میں یہ واحد پہاڑی نما علاقہ ہے جس کی کوئی بھی صورت قدرتی نہیں ہے اور عام خیال ہے کہ یہ پہاڑی پرانے زمانے کے ملتان  شہر کا سکڑا ہوا علاقہ ہے جو کہ کسی آفت کی وجہ سے سمٹ کر پہاڑی بن گیا۔
ملتان میں ریلوے سٹیشن، نشتر میڈیکل کالج، ایک جامعہ (بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی)،  ائیر پورٹ، ملتان آرٹ کونسل، انڈسٹریل اسٹیٹ،  گھنٹہ گھر، وہاڑی چوک، ڈیرہ اڈا، جیل روڈ، عیدگاہ، کتھولک گرجا گھراور کئی دوسرے چیدہ چیدہ مقامات ہیں۔ شہر سے باہر فوجی چھاؤنی واقع ہے، جو ویسی ہی ہے جیسی ہر بڑے شہر میں ہوا کرتی ہے۔
ملتان شہر میں کئی مزارات ہیں، جن میں شاہ رکن عالم، بہاؤ الدین زکریا اور الشمس تبریز کا مزار مشہور ہیں۔ میں پچھلے آٹھ ماہ میں باوجود کوشش کے ایک بھی مزار میں داخل نہیں ہو پایا۔ ہمت بھی نہیں ہوتی، اور ساتھ مجھے ڈر رہتا ہے کہ شاید مجھ پر وہ حال  طاری ہو گا جو ایک بار لاہور میں داتا گنج بخش کے مزار پر برپا  ہوا تھا۔ رمضان میں رات کے پچھلے پہر کوشش کی تو اس مقام سے ہی دبے پاؤں واپس لوٹ آیا جہاں داخلے کی پہلی رکاوٹ نصب ہے۔ داتا کی نگری میں ایسا نہیں ہوتا تھا، یا شاید اب بم دھماکوں کے خطرے کی وجہ سے رکاوٹیں نصب کی ہوں۔
ملتان کی ایک خصوصیت یہاں کے طوائف گھر بھی ہیں۔ جنوبی پنجاب بارے ایک مفصل رپورٹ ہاتھ لگی تھی جس کے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ ملتان پنجاب اور کسی حد تک سندھ اور صوبہ سرحد میں طوائف گھروں کو نو عمر لڑکیوں کی فراہمی کا مرکز ہے۔ ملتان کے آس پاس کے اضلاع جیسے مظفر گڑھ، لیہ، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، جھنگ وغیرہ میں غربت نے خوب اپنا رنگ دکھایا ہے اور کئی قسمت کی ماری لڑکیاں وہاں سے ملتان اور پھر باقی علاقوں میں بطور جنس فراہم ہوتی ہیں۔
اس بارے، مزید تحاریر میں حال ضرور پڑھیے گا۔

تبصرہ کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں

خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔

خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔

بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

جنوبی پنجاب میں۔۔۔ مولتانی ملتان

ملتان، جنوب کا گڑھ ہے۔ بہالپور بارے بھی یہی خیال  غالب ہے مگر بہالپور ایک ریاست کا مرکز تھا اورملتان اس پورے خطے کا مرکز ہے۔ یہ کراچی کے جیسا ہے، یہاں ہر کوئی آ کر آباد ہوا۔ سرائیکی یہاں کے پیدائشی جبکہ پنجابی، پٹھان، اردو بولنے والوں کے علاوہ یہاں پر کئی صوفیائے کرام بھی آ بسے۔  یہاں جو بس  نہ سکے، وہ  آبادیاں یہاں کی مقامی نہ تھیں، بلکہ وہ آس پاس کے شہروں کی وہ جواں عمر لڑکیاں تھیں، یہاں کے قحبہ خانوں سے دوسرے شہروں میں بھیج دی گئیں۔ ورنہ، میری رائے میں جو ملتان گیا وہاں  بسا یا نہیں، وہاں کا ضرور ہو کر رہ گیا۔
ملتان کی کئی سوغاتیں ہیں۔ ان میں سے دو معروف ترین آم اور گرمی ہیں۔ اولیائے کرام کے مزارات سے آمدنی، ظروف، قالین  اور کشیدہ کاریاں یہاں کی مزید پیداوار ہیں۔یہاں کے آم نہایت لذیذ جبکہ گرمی انتہائی شدید  ہوتی ہے۔ یہاں کے باسی اور باہر سے وارد ہونے والے تمام ہی لوگ ان دو سوغاتوں سے بھرپور فیض یاب ہوتے ہیں جبکہ باقی کی پیداواروں کا ایسا ہے کہ وہ کسی کے لیے   لذیذ جبکہ باقیوں کے لئے انتہائی شدید کوفت کا باعث ہیں۔
جب برصغیر میں اسلام وارد ہوا تو کہتے ہیں کہ محمد بن قاسم نے ملتان تک کا علاقہ فتح کیا تھا۔ تب اولیائے کرام نے یہاں خوب ڈیرے جمائے اور ملتان چونکہ اسلامی فتوحات کے نکڑ پر واقع تھا، اسی کو آگے کی تبلیغ کا  مرکز بنایا۔ ملتان پورے برصغیر میں صوفیاء کے سفر کے دوران سرائے کی حیثیت سے مشہور ہوا۔ تب کے صوفیاء نے  یہاں سے برصغیر میں اسلام کی دولت پھیلائی، اور اب انھی صوفیاء کے مزارات مخدوموں کی جیبیں دولت سے بھر رہے ہیں۔
مخدوم فلاں صاحب اور مخدوم فلاں شاہ، یہاں کی ضمنی پیداوار گردانے جائیں کہ جنھوں نے یہاں کے علاقے اور لوگوں پر  حکمرانی  قائم کی ہے۔ یہاں کی آبادی کا وہ حصہ جو دیہاتوں میں مقیم ہے وہ مخدومین کی زمینوں پر مزارعین ہے اور وہ آبادی جو ان کی جاگیر سے باہر بستی ہے، انھیں اولیاء کے مریدین کے نام پر اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔ یہاں کی سیاست شاہ جی سے شروع ہو کر گیلانی و قریشی پر ختم ہوتی ہے، ووٹ حقوق کے لیے نہیں بلکہ پیر صاحب کے لیے دیے جاتے ہیں۔ تو اب بتائیے، کیسی تبدیلی اور کہاں کا "انصاف"؟
جو مخدوم نہ تھے، صاحبو وہ سردار ہیں یا پھر نوابزادے۔ ان کا طریق واردات بھی مخدومین سے جدا نہیں ہے مگر  چونکہ ان کو اولیاء کا دست شفقت میسر نہیں، اس لیے انھیں تھوڑی سختی ، یعنی  اغوا،  ڈاکے، لوٹ اور قتل وغیرہ جیسے قبیح طریقوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ سردار اور نوابزادے اسی وجہ سے بدنام ہیں، ان کی  ذاتی جیلیں مشہور ہیں اور ظلم کے قصے عام ہیں۔ مگر مخدومین، اللہ اولیاء کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، کہ جن کے نام کی مہربانی سے یہ ان قباحتوں سے پاک ہیں۔
ملتان کا حلوہ بھی ایک پیداوار ہے۔ کوئی مجھ سے کہے تو صاحبو اس کا گلہ بجا ہو گا کہ سوہن حلوے کا ذکر کاہے کو پہلے نہ چھیڑا۔ سوہن حلوہ، یہاں کا مشہور ہے اور جس بازار میں یہ بکتا ہے وہاں  سوہن حلوہ خریدنے والوں کو کھوئے سے کھوا اچھلتا ہے۔ کئی اقسام کا حلوہ یہاں دستیاب ہے، جس کی شیرینی سے ہی یہاں کی مقامی آبادی اس تلخی کو ذائل کرتی ہے جو یہاں کے مخدومین، خوانین، سردار لوگ پھیلاتے ہیں۔  آم اور گرمی تو ارد گرد کے علاقوں میں بھی دستیاب رہتی ہے مگر حلوہ خاص ملتان شہر کی سوغات ہے۔ صاحبو، یہاں جو مخدوم نہیں اور جس کا خاندان نوابزادہ یا سردار بھی نہیں ، وہ حافظ ہے۔ قدم قدم پر آپ کو حافظ کے اصلی سوہن حلوے کے کھوکھے مل جائیں گے جن کے رجسٹرڈ نمبر ہی ان کی کوالٹی کا ثبوت ہیں۔ آخری بار جو حافظ کا اصلی حلوہ میں خرید لایا تھا اس کا رجسٹریشن نمبر تین سو ایک (۳۰۱) تھا، مگر چونکہ وہ بھی بیکار نکلا اس لیے اب میں صرف ریواڑی نامی غیر حافظ حلوے کا استعمال کرتا ہوں اور خوش رہتا ہوں۔  بس ایک غم سا  ہوتاہے کہ یہ ریواڑی کچھ غیر اسلامی سا نام ہے، وگرنہ ملتان میں تمام مصنوعات کسی نہ کسی صورت مذہبی تبرک کے ریپر میں لپیٹ کر فروخت کی جاتی ہیں؛ جیسے اللہ ہو فرائی مچھلی،  حافظ کا سوہن حلوہ، شمس تبریز ی تکے،  صحرائے مدینہ کے آم ہی آم اور  ہاشمی، قریشی اور گیلانی جیسے مخدوم سیاستدان وغیرہ وغیرہ۔

(جاری ہے)

تبصرہ کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں

خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔

خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔

بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زندگی کی روح

سفر ہمیشہ سے میرے لیے اذیت رہا ہے۔ کتنی عجب حالت ہوتی ہے کہ بندہ بہت کچھ کرتے ہوئے (ایک مقام سے دوسرے مقام کی جانب گامزن ) بھی کچھ نہیں کر رہا ہوتا۔ آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ معلق ہیں اور آپ بہت کچھ کرتے ہوئے بھی بے بس ہیں۔ اس طرح آپ گاڑی کی ایک نشست پر اپنے آپ کو قفس میں مبتلا پاتے ہیں۔ ایسی حالت میں، آپ کچھ ہی کام ہیں جو سرانجام دے سکتے ہیں؛ پہلا تو یہ کہ باہر دوڑتے مناظر کو تاڑیں، دوسرا یہ کہ ساتھ بیٹھی سواری سے خواہ مخواہ گپیں ہانکیں، تیسرا یہ کہ کچھ مطالعہ وغیرہ کر لیں، چوتھا یہ کہ سو جائیں یا پانچواں یہ کہ اپنے تخیل کے گہرے پاتال میں گرتے چلے جائیں۔ مجھے بہرحال، چوتھا اور پانچوں فعل زیادہ بھاتا ہے۔


لوگوں کی اکثریت جنھیں میں جانتا ہوں، دن میں سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، مگر مجھے رات کی تاریکی میں سفر پسند ہے۔ اس کے دو فائدے ہیں، ایک تو آپ باہر بھاگتے مناظر تاڑ کر اپنے آپ کو تھکن کا شکار نہیں کرتے اور دوسرا آپ اپنے تخیل میں ڈوب کر رہ سکتے ہیں۔ خاموشی تیسرا عنصر ہے جو مجھے سفر میں پسند ہے، اور ہمسفروں بالخصوص اجنبی لوگوں تک میری شناسائی صرف سلام دعا تک ہی رہتی ہے جو کہ اکثر" ایکس کیوز می" سے شروع ہو کر "تھینک یو "پر ختم ہو جاتی ہے۔

سفر میں خاموشی اور اپنی ہی دھن میں مست رہنا مجھے اتنا بھاتا ہے کہ اکثر اگر مجھے یہ جاننے کی حاجت ہو کہ ہم کس مقام سے گزر رہے ہیں تو بجائے پہلو میں براجمان شخص سے جاننے کے، میں باہر دوڑتے مناظر میں سے اچک اچک کر سائن بورڈوں کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سنگ میل جہاں ہوں تو سہولت ، ورنہ تیزی سے بھاگتے سائن بورڈوں کے آخر میں مقام کا نام تو ضرور ہوتا ہی ہے۔ شہروں سے گزرنا مجھے ایک ذرا نہیں بھاتا۔ وجوہات کئی ہیں، کہ ایک تو گاڑی کی رفتار کم ہو جاتی ہے، دوسرا ڈرائیور حضرات خواہ مخواہ ہارن بجاتے گزرتے ہیں اور تیسرا شہر مجھے میرے تخیل سے کھینچ کر باہر لاتے ہیں اور اپنی جانب متوجہ کر دیتے ہیں۔ ہر صورت میں شہر کے گزر جانے کے بعد، مجھے اپنے تخیل سے ربط قائم کرنے کو کچھ وقت ضرور درکار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، سفر کے دوران، چونکہ سو جانا میرا محبوب مشغلہ ہے۔ سفر میں نیند، آرام دہ ہر گز نہیں ہوتی مگر اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ رہتا ہے کہ آپ سفر کی اذیت اور منزل کے تمع سے محفوظ رہتے ہیں۔ اکثر جاگنا، گاڑی کے پریشر ہارن کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ شہروں میں ڈرائیور حضرات جا بجا ہوا میں بکھیر کر دندناتے پھرتےہیں۔ایسی صورت میں ، میں ہڑبڑا کر سیدھا ہوا اور باہر کی بھاگتی آبادی کے سائن بورڈوں کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں اور تاریکی میں ایسا کرنا سوہان روح بن جاتا ہے۔

فی الوقت توآپ صاحبان یہ جانیے کہ شہروں سے گزرنے کا تجربہ ہمیشہ مجھے اس فعل میں مصروف رکھتا ہے کہ میں اس شہر کی دکانوں، مکانوں وغیرہ کے سائن بورڈ پڑھ کر جانوں کہ ہم کہاں سے گزر رہے ہیں۔ ایک بار، کچھ دن پہلے ہی مجھے سفر کے دوران ایک خیال نے جنجھوڑ ڈالا کہ کیا فرق پڑتا ہے کہ میں یہ جانوں یا محروم رہوں کہ ہم کس مقام سےگزر رہے ہیں؟ ہماری منزل اہم ہے نہ کہ وہ سنگ میل جو ہم شہروں کی صورت میں متعین کرتے ہیں۔ مجھے احساس ہوا کہ میرا ہر گزرتے شہر بارے سطحی معلومات اکٹھی کرنا مجھے تکلیف دیتا ہے، میں سائن بورڈوں کا پیچھا کرتے کرتے تھک جاتا ہوں اور ہر گاؤں، قصبے، شہر کا اپنے آبائی علاقے سے موازنہ کرتا ہوں، اور پھر میری مقام بارے دلچسپی مجھے اس بات سے بھی محروم کر دیتی ہے کہ میں اس شہر کی زندگی کا مشاہدہ کروں، باہر چلتے پھرتے انسانوں پر توجہ کروں اور وہاں کی رواں دواں زندگی، اور کبھی کبھار رات کی خاموشی کو اپنے اندر سمو لوں۔ میں نے ایسا کبھی نہیں کیا، اور مجھے شدت سے محسوس ہوا کہ میں ایسا نہ کر کے کس طرح ایک نعمت سے محروم ہوں، آج تک کتنے ہی گاؤں، قصبے اور شہر گزار گیا اور کبھی بھی کسی بھی مقام کی زندگی کی حرکت نہ جانچ سکا۔

اس سفر میں، ابھی میں اسی خیال میں ڈوبا تھا کہ میرے خیالات کا ربط پریشر ہارن چھن کر کے توڑ گیا۔ ہم، ایک شہر میں داخل ہوا چاہتے تھے اوروہ شہر رات کے دو حصے گزار چکا تھا، اور میں نہایت مشکل سے اپنے آپ کو وہاں کے سائن بورڈ پڑھنے سے روک سکا۔

پہلا منظر ایک ہوٹل کا تھا، جہاں دو چار شخص بیٹھے اونگھ رہے تھے اور ان کے درمیان ایک شخص بیٹھا حقے سے شغل فرما رہا تھا۔ محسوس ہوا کہ وہ شخص ہوٹل کا مالک ہےجبکہ ارد گرد اونگھتے نوجوان، چھوٹے۔ وہ منظر زیادہ تر مشاہدے میں نہ رہا، مگر روایتی ہوٹلوں کی طرح ایک تھل جس پر دیگچے پڑے دکھائی دیے، اور باہر ایک انگیٹھی سلگ رہی تھی، جس پر توا جل رہا تھا اور اس پر گھی جلنے کا دھواں بلب کی روشنی میں اٹھتا دکھائی دیا۔ اتنی دور ہوتے ہوئے بھی، میں نے نتھنوں میں جلتے گھی کی مہک محسوس کی۔ بان کی چارپائی، چار چھ پلاسٹک کی کرسیاں، دو میزیں، بان کی چارپائیاں، چند دیگچے، دو ایک انگھیٹیاں، اور ہوٹل کے چھوٹے کل اثاثہ جات تھے، جن کے بل بوتے درمیان میں بیٹھا حقے سے شغل کرتا شخص مخمور بیٹھا تھا۔ میں سوچتا رہا کہ ان اثاثہ جات میں ہوٹل کے چھوٹے وہ اثاثہ تھے جنھوں نے اس شخص کی شان قائم کر رکھی تھی ورنہ مادے میں اتنی خاصیت کہاں کہ ایک شخص کو اس قدر جلا بخشے؟

میرا دھیان بٹ گیا، سائیکل پر ایک شخص بنیان پہنے رواں دواں تھا اور سائیکل کے کیرئیر پر ایک لڑکا ادھر ادھر تاڑ رہا تھا، اس کو بھی کرنے کو میری طرح کچھ بھی میسر نہ تھا۔ گاڑی کے اے سی کی پھیلائی ٹھنڈک کا احساس مجھے اس شخص کی بنیان سے ہوا۔ ایک لمحے کو میں حیران ہوا کہ یہ شخص بنیان پہنے کیوں گھوم رہا ہے؟ پھر احساس ہوا کہ دراصل بس سے باہر شدید گرمی ہے۔ اس معاملہ نے جیسے میرے اندر ہلچل مچا دی۔ میں سوچنے لگا کہ ہم انسان کس قدر احمق ہیں، ہم کیسے ایک ہی رخ سے اس ست رنگی دنیا کو دیکھنے کے ایکدم عادی ہو جاتے ہیں۔ ہم کیسے ایک ہی لمحے میں بیوقوفوں کی طرح صرف اس پر قناعت کر لیتے ہیں کہ ہمیں جیسا دکھائی دے رہا ہے، دنیا کا وطیرہ دراصل وہی ہے۔ میں جس ماحول میں موجود تھا، میرے خیال میں ساری دنیا میں ویسا ہی سرد ماحول ہے، ہر شخص اطمینان سے بیٹھا ہے اور ہرشخص فراغت سے موجود ہے۔ وہ شخص رات کے اس پہر نہ جانے کیوں سائیکل پر جا رہا تھا۔۔۔ کام سے لوٹ رہا ہو گا یا شاید رات کے اس پہر اس کی زندگی میں کچھ ہنگامی صورتحال ہے جس سے وہ نبٹنے جا رہا ہے۔

پھر ایک شخص میری نظروں کےحصار میں آیا۔ وہ شخص سڑک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والے سبزے پر سو رہا تھا۔ اس کو چھت میسر نہیں تھی، لیکن کیا اس کو خاندان بھی میسر نہیں؟ وہ اس شہر کا باسی ہے، یہاں کیا کر رہا ہے؟ دن بھر کیا کرتا رہا، صبح کو جاگ کر کیا کرے گا اور اب اسے کیا پرواہ ہے کہ اس کو اس باہر سڑک کے عین بیچ کتنے خطرات درپیش ہیں؟ وہ جو بھی تھا، اس وقت انتہائی اطمینان سے سویا پڑا تھا، بھاری بھرکم بسوں، ٹرکوں کے انجنوں کا شور، پریشر ہارن اور دنیا کا معاملہ اس پر کچھ اثر نہ کرتا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ یہ شخص کیا ہے؟ اسے فکر دنیا ہے؟ کیا اسے فکر ہے کہ وہ ہمارے جیسا ایک انسان ہے ، ہمارے جیسا جو اپنے دن رات اس سعی میں گزار دیتے ہیں کہ کیسے ہماری ناک اونچی رہے، یہ شخص کیسا عجیب شخص ہے جسے کچھ ثابت کرنے کی حاجت ہی نہیں؟ اس شخص کو میں صرف لمحہ بھر دیکھ پایا، بس کی اڑائی دھول اور تاریکی کی وجہ سے میں اس شخص کے چہرے کے تاثرات محسوس نہ کر پایا، مگر پھر بھی میں سوچتا رہا کہ اگر میں اس شخص کی جگہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ کیا میں بھی اتنا ہی مطمئن سو رہا ہوتا؟

میرا خیال تھا کہ یہ جو بستی تھی، وہ چھوٹی سی کوئی بستی ہو گی مگر وہ شیطان کی آنت کے جیسے بازار تھا، جو ختم ہونے میں نہ آتا تھا۔ شہر میں جیسے جیسے گاڑی آگے بڑھتی رہی میں اس شہر کے بارے سوچتا رہا، اس شہر میں بسے انسانوں کےبارے سوچتا رہا۔ دکانوں کی لمبی قطاریں۔۔۔ ہر دکان کے پیچھے سامان لدا ہو گا اور ہر دکان کو چلانے والا اپنے خاندان کے ساتھ کہیں اندرون شہر سو رہا ہو گا۔ نیند ایسی بلا ہے جس نے کروڑوں کی مالیت کو ایسے ہی چھڑوا دیا ہے اور سارا شہر اپنی کل املاک ایسے تاریکی میں چھوڑ کر بے غم سو رہا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے، جن املاک کے لیے سارا سارا دن یہ انسان دھوڑ دھوپ کرتا ہے، تھانے کچہری بھگتاتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دھوکہ دیتا ہے، ایمانداری سے پیش آتا ہے، منت کرتا ہے اور ترلے کرتے نہیں تھکتا۔۔۔ انھی املاک کو ایسے بیچ بازار تاریکی میں چھوڑ کر سو رہا ہے؟ کیسا تضاد ہے یہ، کیسی دنیا ہے یہ؟

یہ شہر بہت بڑا ہے، آہستہ آہستہ میری دلچسپی کم ہو رہی ہے۔ دھیان قائم رکھنے کو ایک اور شغل شروع کرتا ہوں۔ اس سڑک پر نظر آنے والے ہر اکا دکا شخص کو دیکھتا اور اس کی جگہ خود کو رکھ کر پرکھنا شروع کر دیتا۔ وہ چوکیدار کیا سوچ رہا ہے، یہ ویگن کے پہلو میں سویا شخص صبح کے بارے کیا جانتا ہے، کیا واقعی صبح اڈہ شروع ہونے پر اس کی ویگن اس کو کمائی کر کے دے گی؟ پتہ نہیں وہ شخص جو خراماں خراماں رواں تھا وہ اس پہر کو کیا کر رہا ہے یہاں۔۔۔ ہر شخص کیسے اپنی اپنی تکلیفیں، دکھ، سکھ، لائحہ عمل، منطق، نظریہ اٹھائے جی رہا ہے۔

پھر ایسا ہوا کہ اس شہر میں اس وقت ہر شخص، جو جاگ رہا ہے، جو سو رہا ہے، جو کھڑا یا جو بیٹھا ہے۔۔۔ ہر شخص مجھے اپنا آپ محسوس ہوا۔ ایک ہی لمحے میں یہ شہر کئی سارے عمر بنگشوں سے بھر گیا، وہ شہر جو چند لمحے پہلے میرے لیے اجنبی تھا، میرا شہر بن گیا۔ مجھے لگا، میں تمام انسانوں کو جانتا ہوں، میرا اور ان کا ایک تعلق ہے، ایک واسطہ ہے۔۔۔ کچھ ہے جو ہم میں سانجھا ہے۔ بھلے ہم مختلف لوگ ہوں، ذات جدا، پیشہ الگ، عمر یں تھوڑی یا زیادہ اور تجربہ کیسا بھی ہو، بھلے ہم اختلافات رکھتے ہوں، بھلے ہماری سوچ جدا ہو مگر کچھ تو ایسا ہے جو ایک ہے، میرا اور اس شہر کے ہر انسان کا خمیر ایک ہے، منبع ایک ہے، اصلیت ایک ہے ۔

صاحبو، بس رواں دواں رہی، مشاہدے کی فہرست طویل ہے۔۔۔ میں ایک کے بعد ایک انسان کو دیکھتا رہا، سوچتا رہا اور جانتا رہا۔ پہلی بار، اس شہر کے نام، ترتیب، اور دوسری معلومات نہ جان کر انسانوں کو سمجھنے کا موقع ملا۔ یہ عجیب بات تھی، جب گاڑی اس شہر کی حدود سے باہر نکل رہی تھی تو پہلی بار ایسا ہوا کہ میں اس شہر کے بارے سطحی معلومات کی بجائے اس شہر کی روح جانچ کر نکل رہا تھا۔ خاموش، تاریک رات میں، جب وہ شہر سارا سو رہا تھا، اس شہر کے انسانوں کو پتہ ہی نہیں چلا کہ کوئی شخص ان کے اندر تک گہرائی کو محسوس کر کے نکل گیا، اسے ہر کاروباری، ہر دکاندار، ہر مزدور اور ہر شخص کی زندگی کا حال جاننے کا شرف حاصل ہوا۔ پہلی بار، کسی شہر نے میرا، میرے تخیل سے رابطہ نہیں توڑا، بلکہ اسے مزید گہرا کر دیا۔



(شہر: فیصل آباد)

تبصرہ کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں

خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔

خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔

بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

جنوبی پنجاب میں۔۔۔: جنوب کا قضیہ

فرض کیجیے، میں ایک توہم پرست ہوں ۔ ایسی صورت میں یہ کہ جنوب سے میرا پیچھا نہیں چھوٹتا، میں نے اپنی زندگی کے اب تک کےاہم ادوار میں جہاں گیا وہ جنوب تھا۔ بالاکوٹ سے جنوب کی جانب مانسہرہ میں، تعلیم کے لیے صوبہ کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور اب تلاش روزگار میں ملک کے صوبہ پنجاب کے جنوبی حصے میں۔
جنوب ایک سمت ہے، اور جیسے جیسے یہ زندگی مجھے اس سمت میں اندر ہی اندر، اور گہرا دھکیل رہی ہے ویسے ویسے میری رائے کی سمت بھی واضع ہوتی جا رہی ہے۔ میری رائے کی یہ سمت، دنیا بارے جنوب کے جیسے، گہرائی میں گرتی جا رہی ہے، دنیا کا اصل روپ واضع ہوتا جاتا ہے اور ہر گزرتا لمحہ مجھے اس دنیا سے دور ہی لےجاتا جا رہا ہے۔ یہ بلاگی سیریز، جو میں آج سے حوالہ قرطاس کرنے جا رہا ہوں بھی ایک سمت سے دنیا کا مشاہدہ ہے، میری نگاہ کی سمت سے۔
جنوب بارے لکھنا دلچسپ تجربہ ثابت ہو سکتا ہے، یہ حقیقت کل ہی مجھ پر افشاء ہوئی۔ یہاں کا ماحول اس دنیا کے بے شمار حقائق میں سے وہ حقیقت ہے جو مجھ پر یہاں آنے پر آشکار ہوا۔ پنجاب کے جنوب میں واقع یہ سرائیکی پٹی ہے جہاں کا اپنا رنگ ہے، جہاں کے اپنے رواج اور جہاں کے آم کی مٹھاس ملک اور بیرون ملک لوگوں کے منہ میں رس گھولتی ہے۔ سرائیکی زبان کی مٹھاس اور لوگوں کی عاجزی آپکا دل موہ لیتی ہے ۔ یہاں رہ کر یہ مشاہدہ دلچسپی سے خالی نہیں کہ یہاں کا انسان کیسا ہے؟ یہاں کا انسان کیا سوچتا ہےاور کیا واقعی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے؟ مرد کا یہاں کے معاشرے پر کتنا اثرہے اور وہ اثر کیا نتائج برآمد کرتا ہے؟ اور عورت کا حال کیسا ہے؟ بچے کس ماحول میں پروان چڑھتے ہیں؟ اور یہاں کے بزرگ کیا سوچ کر اب تک جی رہے ہیں؟ یہاں بھانت بھانت کے لوگ، قبیلے اور رواج آباد ہیں تو وہ قبیلے کیا واقعی پہچان کے واسطے ہیں؟ رواج کیا لوگوں کی زندگیوں کو آسان کرتے ہیں؟ تو کیا لوگ واقعی اپنی قسمت کے خود مالک ہیں؟
یہاں کے شہروں اور دیہاتوں میں کتنا فرق ہے ۔اس خطے کے شہر کیسے ہیں اور دیہات کیا احوال رکھتے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جو کبھی تو پنجاب کے خوشحال صوبہ میں پسماندہ ترین علاقہ سمجھا جاتا ہے جبکہ اسے بڑے دریا سیراب کرتے ہیں۔ دریاؤں کے بند پار کرتے ہی طرز زندگی کیسے تبدیل ہو جاتی ہے؟ سیلاب یہاں کے کھلیانون کو کیسے اجاڑتا ہے تو یہاں کی آبادی دریا کے ساتھ کیسے گزارہ کرتی ہے؟ اگر کسی کے لیے کہیں ڈیم سیاست کا مسئلہ ہے تو دوسری جانب دریا کا بہاؤ کسی کا حق؛ تو درمیان میں آباد مخلوق کے لیے اسی ڈیم کا نہ بننا، زندگی اور موت کا کیسا مسئلہ ہے؟
یہاں کے آم اگر لذت میں مشہور ہیں تو عام عوام، بالخصوص دیہاتی آبادی کی زندگیاں کس لذت سے آشناء ہیں؟ شہروں میں اگر چمچماتی گاڑیوں میں مربعوں کے مالک زمیندار گھومتے نظر آتے ہیں تو ان چمچماتی گاڑیوں کاایندھن کمانے والا غریب کاشتکار دور کہیں اندرون میں کسی کھیت میں کیا سوچتا ہے؟ ہمارے جسموں کو ڈھانپنے والے کاٹن کے ملبوسات کے بارے میں پتہ چلا کہ جس کپاس سے یہ بنا ہے، اس کپاس کو چننے والی عورتیں کس حال میں زندہ ہیں؟ یہاں کی زندگی دو انتہاؤں پر رواں دواں ہے، جس کی ایک انتہاء وسائل کی بہتات سے تعبیر ہے جبکہ دوسری انتہاء غربت کی پاتال میں مسلسل گرتی جا رہی ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں چند لوگ اس لیے مخدوم ہیں کہ باقی کی تمام آبادی خادم۔یہاں کی عورت کی اگر ایک مثال مختار مائی ہے تو دوسری جانب یہاں کے وڈیروں کےگھروں کی ناموس اور عزت عورتیں ہی ہیں۔ مختار مائی سے ملاقات کیسی رہی اور اب مختار مائی کے معمولات کیا ہیں؟
پنجابی طالبان کا سہرا اسی خطہ کی پیشانی پر سجتا ہے؛ یہ اگر لال مسجد کے بنیاد پرست مولانا عبدالرشید غازی کی بنیاد ہے تو دوسری جانب روشن خیالی کے دعویدار عملی سیاست میں سرگرم ہیں ۔ روٹی کا مسئلہ کیسے پنجابی طالبان کو جنم دیتا ہے تو دوسری جانب روٹی فراہم کرنے کے دعویدار سیاستدان ہر بار کس بنیاد پر لوگوں سے ووٹ اینٹھتے ہیں؟
صاحبو، بے ہنگم انداز میں لکھی جائے گی یہ رپوتاژ، جیسے کہ بے ہنگم یہاں کی زندگی ہے۔ اس سلسلے کے تسلسل کی امید رکھے بغیر پڑھیے گا کہ یہ ایک معاشرے کا احوال ہے ، جسے باہر سے نوارد ایک شخص نے مشاہدہ کیا ہے اور وہ اگلے پورا ایک سال یہاں کی زندگی کا حصہ رہے گا اور جتنا موقع ملا، وہ حال یہاں پہنچائے گا۔

تبصرہ کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں

خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔

خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔

بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

مقدمہ نسوار

نسوار دلچسپ سوغات ہے، دسویں جماعت تک کے سائنس کے طالب علموں کے لیے یہ صرف مینڈکوں کو بے ہوش کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی  اک دوائی ، جبکہ اسے کھانے والوں کے لیے فرحت اور شغل  کا سامان۔
دنیا آج بھی مخمصے کا شکار ہے اور سمجھ نہیں پاتی  کہ نسوار استعمال کرنے کو کیا نام دیا جائے؟ شراب نوش کی جاتی ہے، پان چبایا جاتا ہے اور بیڑی پی جاتی ہے مگر نسوار پر یہ الزام ہے کہ اسے کھایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نسوار کھائی ہی نہیں جا سکتی، اگر اسے کھائے جانے کی کوشش کی جائے تو  کھانے والا شرطیہ اوندھے منہ  اپنے معدے میں موجود  سارا مواد واپس الٹ دے، اور پھیپھڑے صرف باہر کو ہوا پھینکیں۔۔۔ ایسا جانیے کہ اسے کھانے والے کا دل کھایا جاتا ہے۔ صاحبان کی معلومات کے لیے بتائے دیں اور رائے جانیں کہ  نسوار استعمال کرنے کا عمل تین حصوں میں منقسم ہے؛  پہلے حصے میں جیب سے نسوار برآمد کر کے اس پر لپٹی "ربر بینڈ" اس احتیاط سے کھولی جائے کہ پلاسٹک کی گتھی کی شرررر ہوا میں بکھر جائے۔ دوسرے حصے میں پلاسٹک کی گتھی کے اوپر سے ہی خراماں خراماں ایک گولی تخلیق کی جائے اور تیسرے حصے میں اس گولی کو احتیاط سے اوپری یا نیچے والے ہونٹ اور جبڑے کے درمیان سجا دیا جائے۔ اب اس عمل کو کیا کہیے گا، ہمارے رائے میں کھانا تو ہر گز نہیں ہے۔
بات یہیں تک محدود نہیں، نسوار بارے  ابھی تک اس کے صحیح مقام کا تعین بھی ممکن نہیں ہوا،  اسے کہاں شمار کیا جائے؟ یہ نشہ آور اشیاء میں شمار ہو گی یا پھر اسے استعمال میں لانے والوں کے لیے صرف شغل کا سامان  گردانا جائے۔ جو استعمال نہیں کرتے، ان کے لیے یہ اگر نشہ آور نہ بھی سہی، صحت کی بربادی کا موجب  ضرور ہے۔ اور جو اسے استعمال کرتے ہیں ان سے اس بارے دریافت کرنا ہی فضول ہے۔
کہتے ہیں کہ نسوار استعمال کرنے کا  اصل نشہ اس کی گولی بنانے میں ہے، منہ میں دبائے رکھنا تو بس اک رواج ہے۔  کہنے والے نے اپنی منطق کو ثبت کرنے واسطے مثال دی کہ لوگوں کو ایک دوسرے کو پان بنا کر پیش کرتے دیکھا ہو گا مگر آج تک ایک "نسواری" کو دوسرے "نسواری" کی جانب نسوار کی گولی اچھالتے نہیں پایا ہو گا۔  نسوار کی گولی بھی خوب شے ہے، لوگ اس کے حجم سے "نسواری" کی عادت کی تاریخ کا اندازہ لگاتے ہیں۔ سگریٹ نوش، وقت کے ساتھ سگریٹوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں اور "نسواری" وقت کے ساتھ اس کی گولی کے حجم میں۔
نسوار کے نشے آور ہونے بارے متضاد رائے ہیں،  آج تک اس فتنہ پرور پر کسی مفتی کا فتویٰ سننے میں نہیں آیا   مگر پھر بھی یہ بحث اکثر سماعتوں میں رس گھولتی ملتی ہے کہ آیا جیب میں نسوار کی پڑیا رکھ کر نماز ادا ہو جاتی ہے؟  حالانکہ دو ایک مولویوں کو ہم نے خود نسوار کی گولی اوپر کے جبڑے میں سجائے نماز تراویح  کی امامت کرتے پایا۔
سیانے کہتے ہیں کہ نسوار کے اجزاء تین ہی ہیں؛ تمباکو، چونا اور پانی۔  تینوں میں سے ایک بھی نشہ آور شے کا خطاب سر لینے کو تیار نہیں۔ چونا اگر نشہ آور ہے تو صاحبو، فوجی چھاؤنیوں کے تمام درخت اور ٹرکوں اور جیپوں کے ٹائر ہر وقت نشہ میں دھت رہتے ہوں گے ، اور پانی اگر نشہ آور شے ہے تو شراب کشید کرنے کا فائدہ؟ رہا تمباکو تو اس بارے کچھ تسلی سے کہا نہیں جا سکتا۔ ایک "نسواری" سے دریافت کرنے پر عجب منطق سامنے آئی کہ، " سگریٹ اور نسوار میں فرق یہی ہے، نسوار میں آپ چرس بھر کر نہیں پی سکتے تو اس لحاظ سے نسوار صحت بخش شغل ہے"۔ 

(نسوار بارے اس تحریر کا موجب، یہ تحریر ہے)

تبصرہ کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں

خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔

خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔

بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اصول تجارت

انسان کے رہنے سہنے کے طور طریقے، رسم و رواج اور تہذیب و تمدن شاید ہر دور میں تغیر کا شکار رہے ہیں، مگر ایک شے ایسی ہے جو کبھی نہ بدلی یا کم از کم مجھے وہ واحد ایک ہی شے ایسی نظر آئی؛ تجارت ایک سی رہی، بازار ایک سے تعمیر ہوئے، مول تول کا انداز وہی رہا اور بازار واحد مقام رہا جس کے اصول کبھی تبدیل نہ ہوئے۔ کہیں بھی چلے جائیے، مشہور و معروف شہروں اور کسی بھی چھوٹے گاؤں یا قصبے کا دورہ کر لیجیے، تاریخ کھنگال لیں یا پھر اپنے ذہن کو ہی تکلیف دے لیجیے، بازار کی روایت ہمیشہ ایک سی رہی ہے۔ خرید و فروخت کا انداز نہیں بدلا، تول مول کا گر ویسے کا ویسا رہا۔ تجارتی قافلوں کی جگہ ٹرانزٹ نے لے لی، دکانوں کا حلیہ بڑی بڑی مارکیٹوں میں ڈھل گیا۔۔۔۔ مگر صاحبو، چھوٹے سے چھوٹے تاجر اور بڑے سے بڑے اجارہ دار کا طریق وہی رہا۔ تاریخ نے کئی معاشی نظام وضع ہوتے دیکھے مگر بنیاد وہی رہی۔
بازار کو سمجھنا ہو تو اس کے حصوں پر غور کیجیے؛ پہلا دکاندار، دوسرا گاہک اور تیسری وہ اجناس جن پر یہ سب میلہ سجایا جاتا ہے، گاہک اور دکاندار کا رشتہ استوار رہتا ہے اور معاملات زندگی چلتے رہتے ہیں، بازار ہرے بھرے رہتے ہیں۔ صاحبان، میں اکثر سوچتا ہوں کہ بازار کے تین حصوں میں سب سے اہم جزو کیا ہے؟
مجھے بازار میں دو حصے ہمیں ہمیشہ ویسے کے ویسے ہی ملتے ہیں۔ اس جہاں پر وقت کا ایک ریلہ گزر گیا مگر دکاندار اور گاہک ویسے کے ویسے ہی رہے۔ نسلوں کی نسلیں پیدا ہوتی رہیں مگر میں جانتا ہوں کہ ہر نسل کا ہر انسان اپنی زندگی میں ایک شکل میں دکاندار جبکہ باقی کی تمام اشکال میں گاہک رہا۔ یہ صرف جنس تھی جس نے اپنی ہئیت، صورت اور قیمت بدلی۔ انسان ویسے کا ویسا رہا مگر جنس وہ نہ رہی۔ سامان تجارت ہر دور میں شکل تبدیل کرتا رہا ۔ ہر بازار میں گاہک و دکاندار وہی رہے مگر اجناس تبدیل ہوتی رہیں، انسانی ترقی کے پاٹ میں پستی رہیں۔ یہ اجناس ہی ہیں جو بازار میں ایک انسان کو دوسرے انسان کو جوڑے رکھتی ہیں، کبھی ایک تو کبھی دوسری صورت میں۔ مادے کے ان بازاروں میں صرف دو ہی تعلق ہوتے ہیں، یا تو آپ گاہک ہیں ،نہیں تو پھر دکاندار۔
یہ عام فہم کی بات ہے، بازار کا کلیہ سب کو معلوم ہے مگر میں اکثر سوچتا ہوں کہ ان تین حصوں میں سب سے مضبوط حصہ کونسا ہے۔ گاہک، دکاندار اور جنس میں سب سے اہم جزو کون رہا؟
دکاندار اور گاہک جہاں ایک سے رہے، وہاں یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ مجبوری میں ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ اپنی اپنی ضرورت اور ترجیحات کی شکل میں ان دونوں حصوں کے گلے میں ایک طوق ہے جو ان کو مجبوراً ایک دوسرے سے جوڑے رکھتا ہے۔ دونوں کے گلے میں ضرورت کا وہ ڈھول ہے جو انھیں بجانا ہی ہے، مگر جنس، جنس وہ حصہ ہے جو ان دونوں حصوں کی ضرورت، ترجیحات اور ہوس کو پوری کرتا دکھائی دیتا ہے۔
صاحبو، میں آج تک یا تو دکاندار یا گاہک بن کر ہی سوچتا رہا مگر کبھی جنس بن کر نہیں سوچا۔ اجناس پیدا ہوتی رہیں، دکانوں پر سجائی جاتی رہیں، بکتی رہیں اور پھر استعمال ہو کر معدوم ہوتی رہیں مگر کبھی اجناس کی شکل میں خود کو جاننے کی کوشش نہیں کی۔عقلی بنیادوں پر اگر جنس بن کر سوچوں تو ایک ہی طریقہ ہے اور وہ انسان کے بارے ایک اصطلاح کا سہارا ہے جسے "افرادی قوت" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انسان اس اصطلاح کی تعریف میں ایک جنس ہے، بازار میں بکتی ہوئی کئی اجناس میں سے ایک جنس۔ دنیا کے بازار میں یہ جنس کیسے پیدا ہوتی ہے؟، کیسے بازار تک پہنچتی ہے؟، کس صورت میں پہنچتی ہے؟، قیمت کون لگاتا ہے؟ اور خریدار اس جنس کو کیسے استعمال کرتا ہے؟ تمام سوالات کے جوابات ہم میں سے ہر ایک شخص کی جیب میں پڑا ہے۔۔۔۔ ہم میں سے ہر شخص، اپنے آپ کو بطور جنس جانتا ہے اور وہ ہر روز ہر لمحہ اس کی شکل میں بکتا بھی رہتا ہے۔
مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کاروبار دنیا میں، اگر کوئی جنس تبدیل نہیں ہوئی تو وہ انسان ہے۔ انسان ہی ہمیشہ سے وہ جنس رہا جس کو ہر دور میں خریدا اور بیچا جاتا رہا، مادہ کی شکل میں دستیاب اجناس شاید معدوم ہوتی رہیں، ان اجناس کی بازاروں میں ضرورت وقت کے ساتھ بدلتی رہی مگر انسان، وہ جنس ہے جو تب بھی اور آج بھی ویسے کے ویسے ہی رہا، ویسے ہی پیدا ہوا، جنس کی شکل اختیار کی ، بازار تک پہنچا ، بکا ، استعمال ہوا اور پھر کسی دوسرے انسان کی شکل میں ویسے کی ویسے ہی جنس بن کر پھر بازار میں جا پہنچا۔
اس بازار میں,  جبکہ میں جنس ہوں، اور ہر لمحہ یہاں, بطور جنس موجود ہوں، آسان الفاظ میں جیسے بیان کیا کہ میں افرادی قوت کی اصطلاح کی تعریف میں شامل ہوں مگر تہہ میں ہر جگہ ،میں بک رہا ہوں۔ میں اپنے پیشے کی شکل میں ایک جنس، جبکہ ہر طرح کے تعلقات کی شکل میں دوسری جنس کی صورت اختیار کیے بازار میں جھلمل رونق بڑھا رہا ہوں، گاہکوں کی نگاہوں کو خیرہ کر رہا ہوں اور اپنی خصوصیات کا واویلا مچا مچا کر لوگوں کو اپنی جانب مبزول کر رہا ہوں، اپنی خباثت دکھا کر گاہکوں کو میرے معیار پر شک میں مبتلا کرتا ہوں اور بعض اوقات، بحیثیت جنس، اپنی ضرورت کے لیے منت ترلے کرنے سے بھی باز نہیں آتا۔
صاحبان، مجھے مادے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ مادے کی اجناس ایسی ہوتی ہیں جنھیں کوئی دوسرا پیدا کرتا ہے، بازار تک پہنچاتا ہے، قیمت لگاتا ہے اور پھر بیچ دیتا ہے۔ خریدنے والا، اسے اپنی مرضی کے مطابق استعمال میں لاتا ہے اور جب چاہتا ہے معدوم کر دیتا ہے۔
یہ تو طے ہے کہ میں بھی اجناس میں سے ایک جنس ہوں، مجھے تو خود میں بطور جنس دلچسپی ہے؛ میں اجناس میں وہ جنس ہوں جو پیدا ہوا، تربیت پائی مگر اس کے بعد کے تمام مرحلے یعنی معیار اور شکل، قیمت، بازار، طریق فروخت اور یہاں تک کہ خریدار کا تعین بھی میں نے خود کیا۔۔۔۔ کوشش رہی کہ خریدار مجھے استعمال بھی میری مرضی سے کرے اور معدوم بھی میں اپنی مرضی سے ہوں تو صاحبان، ایسی صورت میں تمام تر تجارت کے اصول دھڑام سے زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ دنیا کا بازار ایسا نہیں ہے، اصول معدوم ہو جائیں تو دنیا ہمیں کانٹوں کا بستر محسوس ہوتا ہے اور ہم ہر لمحہ جلتے ہیں، ہر لمحہ مرتے ہیں اور ہم خدا کی بنائی ہوئی جہنم کی آگ کو دنیا میں ہی پالیتے ہیں۔ صاحبان، انسان وہ جنس ہے جس کی پیداوار، خرید و فروخت اور استعمال و معدومیت کے کچھ اصول ہیں جیسے کہ باقی کے بازار میں مادے کی اجناس کی تجارت کے کچھ اصول ہیں۔ انسان کی تجارت کی شکل دوسری ہے، اس کا طریق زندگی ہے جو کہ دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلق پر استوار ہے۔ جیسے گاہک اور دکاندار جنس کی دو قیمتیں لگاتے ہیں، ویسے ہی انسان کی بھی دو قیمتیں ہیں ایک وہ جو وہ خود طے کرتا ہے اور دوسری وہ جو طریق زندگی میں کوئی دوسرا انسان طے کرتا ہے۔ تول مول میں صاحبو تسلی ، برداشت اور حب رکھی جائے تو متفقہ قیمت طے ہو جاتی ہے ورنہ وہ ہنگامہ برپا رہتا ہے جو آج ہمیں ہر شعبہ زندگی میں، ہر رشتے میں اور ہر تعلق میں دکھائی دیتا ہے۔
بات تعلقات اور رشتوں میں جا نکلی تو صاحبو، میں سمجھتا ہوں کہ اس بازار میں انسان جب بحثیت جنس اپنی قیمت خود لگائے تو کچھ گڑ بڑ ہوتی ہے، باقی کی اجناس کی طرح اگر انسان بھی صرف اپنے معیار اور اپنی تربیت پر غور کرے تو قیمت خود بخود بڑھتی چلی جاتی ہے۔ انسان، ہمیشہ اپنی قیمت طے کرنے میں لگا رہا، کبھی جنس کے معیار پر غور نہ کیا۔ معیار نہ ہو اور قیمت کی توقع رکھے چلے جانا کیا گڑبڑ کرتا ہے، اس اصول کو مجھ سے زیادہ میرے فاضل قارئین بہتر سمجھتے ہیں۔

تبصرہ کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں

خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔

خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔

بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

نچ او غلام نبی

دیکھیے مذمت کرنے کو میرے پاس کئی موضوعات ہیں۔ شخصیات  چلا چلا کر پکار رہی ہیں کہ ان پر تنقید کروں اور واقعات پے در پے برپا ہو رہے ہیں کہ میں گھنٹوں ان کے محرکات پر سر کھپاؤں۔ لیکن میں ہوں کہ خود اپنے آپ پر اٹکا ہوں، خود پر بات کرتا ہوں تو دوسرے افراد خود بخود اس تنقید کی  زد میں آتے چلے جاتے ہیں، شاید وجہ یہ ہے کہ میں اپنے آپ کو بطور انسان سوچتا ہوں، اور  پھر اسی لیے سماجی جانور ہونے کے ناطے اپنی ذات کو دوسرے انسانوں سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ان  تمہیدی کلمات کو میری جانب سے پیشگی معذرت  جانیے، کہ کچھ اختلافی خیالات کا اظہار کرنا چاہوں گا۔
اگر میں لوگوں کو اپنے خیالات میں گھسیٹ لاتا ہوں، اور اپنے ساتھ انھیں بھی تنقید کا نشانہ بناتا ہوں  تو بے جا نہیں کرتا، مثلاّ میں زندگی کی دوڑ میں شریک ہوں تو اپنے ارد گرد کے جیتے جاگتے انسانوں کے مقابلے میں دوڑ رہا ہوں۔ اس دوڑ میں انھیں پیچھے چھوڑ دینے کی دھن  میں جب منہ کے بل گرتا ہوں تو  خود کو کوسنے نہیں دے سکتا، انھیں مورد الزام ٹھہراتا ہوں کہ وہ اتنا تیز کاہے کو بھاگ رہے تھے کہ میں ساتھ نہ دے سکوں اور دیکھو، اب منہ کے بل گر بھی گیا۔ ایسے ہی دوسری مثال سن لیجیے کہ  مسجد کبھی کبھار جاتا ہوں کہ وہاں بیٹھے ایک انسان، جسے عرف عام میں مولوی صاحب یا پیش امام  پکارا جاتا ہے، معاف کیجیے گا ، میں کوئی صابر شخص نہیں ۔۔۔ مسجد کی محفل  سے میری رغبت  میں کمی انھی صاحب  کی عادات اور بیانات کا شاخسانہ ہے۔اب میرا خدا سے رابطہ کم ہے تو میں کل کلاں،  قیامت کے روز مولوی صاحب کا گریبان پکڑنے کا متمنی ہوں۔
مولوی  صاحب سے یاد آیا، اسلام میری زندگی میں داخل ہے۔ زندگی میں شاید میں بعد میں داخل ہوا ہوں، اسلام پہلے داخل ہو چکا تھا، مدعا یہ ہے کہ میں پیدائشی مسلمان ہوں اور میرے آباؤاجداد  صدیوں سے اسلام کی مالا جپتے آ رہے ہیں۔  اسلام تو میری آنکھ کھلنے سے پہلے میرے نصیب میں داخل تھا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں ابھی تک اسلام میں داخل نہیں ہو پایا (ذاتی تسکین کے لیے سمجھتا ہوں کہ مکمل طور پر اسلام میں داخل نہیں ہو پایا)۔  ہاں  تو اور کیا، اگر آپ پیدائشی کلمہ  توحید پڑھنے اور خدا کی ذات پر صرف یقین رکھنے کو اسلام کہتے ہیں تو میں اسلام میں داخل ہوں ورنہ جو تعریف اسلام میں دخول کی مولوی صاحب کرتے ہیں۔۔۔۔ اللہ معاف کرے، مولوی صاحب سے متنفر رہنے کی یہ معقول وجہ ہے۔
مسئلہ صرف اتنا نہیں ہے کہ مجھے مولوی صاحب کی تشریح اسلام پر اعتراض ہے، مسئلہ یہ  بھی ہے کہ مولوی صاحب اپنی سمجھ کے مطابق میرے دماغ سے کھیل رہے ہیں۔  ہر گلی، ہر موڑ اور ہر مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے  اپنی سمجھ کا اور اپنے ہی علم میں جکڑا اسلام نشر ہو رہا ہو تو بتائیے میں کہاں جاؤں؟
تبرک کے لیے نعمت اللہ کا حال سنتے جائیے۔ نعمت اللہ بیبا بندہ ہے، پیشے سے ڈرائیور اور انتہائی انکساری کا حامل۔  صابر اتنا کہ برا بھلا کہنے پر اف تک نہ کرے اور غیرت مند اتنا کہ  ایک بار میں نے خود اسے ملاحظہ کیا ؛  وہ  دو دن بھوک سے نڈھال رہا مگر مجال ہے کہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوں۔ خدمت میں اعلیٰ  مقام رکھتا ہے، مثال دوں تو   اس کے ساتھ سفر کرتے ہوئے بندے کو محسوس  تک نہیں ہوتا کہ وہ سفر کی آزمائش سے دوچار ہے۔ لوگوں کی سنتا ہے، خدا پر یقین رکھتا ہے اور راہ سلوک کا داعی ہے۔ کسی پیر صاحب کے ہاتھوں بیعت کر چکا ہے اور اب ادھیڑ عمری میں پیر صاحب کی راہنمائی میں خدا کی خوشنودی پانے کو بے چین رہتا ہے۔ نعمت اللہ کا معمول ہے کہ پیر صاحب کی آمد پر خوب اہتمام کرتا ہے اور جان جوکھوں میں ڈالے رکھتا ہے کہ اس سے کوئی کوتاہی سرزد نہ ہونے پائے ۔  اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ ایسا موقع  آ گیا  کہ راہ سلوک کے رہنماء کی ناراضگی کے سبب  ،  خدا کی خوشنودی سے ہاتھ دھونا پڑ گئے تو وہ کہاں جائے گا۔ ۔؟ قصہ مختصر، وہ راہ سلوک میں مجاہدے کا قائل ہے۔
 نعمت اللہ کا ایک واقعہ آج کل  حلقہ احباب میں عام ہے۔ بیان ایسے ہے  کہ نعمت اللہ اپنے پیر صاحب کی  آمد پر کئی دوسرے مریدین کے ہمراہ باہر  سڑک پر ٹھٹھر رہا تھا کہ وہاں اس کے دفتر کے ساتھی ڈرائیور کا گزر ہوا۔ ساتھی ڈرائیور کا  کہنا ہے کہ نعمت اللہ سے حال احوال پوچھنے کو وہ لمحہ بھر رکا، تو اسی اثناء میں پیر صاحب کی آمد کا شور برپا ہوا۔۔۔ پیر صاحب جیسے ہی منظر عام پر واضع ہوئے تو ڈھول پر تھاپ پڑنی شروع ہوئی۔ جملہ مریدین   حال برپا کرنے کو رقص میں مصروف ہوئے۔ موقع پر حال جاری ہو گیا  اور مریدین میں سے ہر شخص  ڈھول کی تھاپ پر دیوانہ وار رقص میں غرق ہوتا چلا گیا۔
 ان دیکھے خوف میں مبتلا نعمت اللہ کی نظر اپنے ڈرائیور ساتھی پر پڑی، جو ایک جانب کھڑا  مریدین کے رقص سے محظوظ ہو رہا تھا اور موقع پر پیر صاحب کے بعد دوسرا شخص تھا  جو رقص کے مرکزی حال سے بے خبر  اورجسے تمام افراد کے مشاہدے کا شرف حاصل تھا۔ نعمت اللہ چلایا، "نچ او غلام نبی، گناہ گار ہوندا پیا ایں۱"۔ (ناچ اے  غلام نبی، گناہ گار ہو رہا ہے!")۔ اس کے بعد کے بیانات ہیں کہ غلام نبی قریباّ آدھے گھنٹے تک ناچتا رہا اور پسینے میں شرابور گھر پہنچا۔ غلام نبی جب بھی یہ واقعہ بیان کرتا ہے تو منہ بھر کر اپنی بیوقوفی پر قہقہہ برآمد کرتا ہے اور اس بیوقوفی کو سننے والا  شخص قہقہہ اگر نہ بھی بلند کرے،  بیوقوفی سنانے کے انداز پر ہنستا ضرور ہے۔
لیکن، اکثر میں نے غلام نبی بن کر سوچا ہے۔ غلام نبی کہتا ہے، کہ ناچنے کی دعوت پر اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، مگر گناہ کے خوف میں مبتلا ایک دوسرے انسان کا اسے  گناہ گار ہونے کی وعید  سنانے کا  حال، اس کے اعصاب پر بجلی بن کر گرا۔ وہاں ہر شخص، گناہ کے خوف میں مبتلا روحانیت  اور سلوک کے حال سے ناواقف تھا، ہر شخص خوف کے حال میں جی رہا تھا۔   غلام نبی نہ چاہتے ہوئے بھی، آدھ گھنٹہ صرف اس ڈر سے ناچتا رہا کہ، کیا خبر وہ نہ ناچ کر خدا کے کس طرز کے غصے کو دعوت دے رہا ہے؟  پیر صاحب بارے، غلام نبی خاموش ہے کہ اسے یہ خوف بچپن میں گھونٹ گھونٹ پلایا گیا تھا کہ بزرگ اور خاص طور پر وہ جو ولی اللہ کا دعویٰ کرے، سراسر بے ادبی ہے۔ خود کو آگ میں جھونکنے کے مترادف ہے۔
صاحبان، معذرت مگر یہ تسلسل سے جاری ہونے والی خوف کی زنجیر ہے، جس میں ہر شخص اپنا وقت، اپنی سمجھ کے مطابق  خوف کی حد  آنے پر بندھا چلا جاتا ہے۔ اس زنجیر  کی ہر کڑی ہمیں ہر وقت خوف میں مبتلا رکھتی ہے اور یہ گناہ کا خوف   ہمیں نیکی تو کجا، بدی کو بھی درست طریقہ سے برپا کرنے کے قابل نہیں چھوڑتی۔ میرا ماننا ہے کہ خدا کا خوف، انسان کو انسان بناتا ہے مگر یہ کیسا خوف ہے جو ہمیں انسان کہلانے کے قابل بھی نہیں چھوڑتا، ہماری سمجھ بوجھ گروی رکھ لیتا ہے؟
 غلام نبی ناچ رہا ہے، ہر شخص کے گلے میں پڑا نظریات اور عقیدے کا  ڈھول تھاپ پر تھاپ دے رہا ہے اور غلام نبی وحشیانہ انداز میں خوفزدہ،  اس تھاپ پر ناچتا جا رہا ہے۔ ہم سب میں کہیں نہ کہیں، ایک غلام نبی  ہر وقت گناہ کے ڈر سے ناچتا ہے۔ صبح و شام ناچتا ہے، جہاں کہیں سے اسے اپنے افعال، اپنی روزمرہ زندگی میں گناہ گار ہونے کی مہین بھر آہٹ محسوس ہوتی ہے، وہ ناچتا ہے۔ وہ اپنے افعال کی شکل میں ناچتا ہے، وہ  مولوی صاحب کے خطبات کی روشنی میں ناچتا ہے اور وہ اپنی سمجھ کے بوجھ تلے ناچتا ہے۔
مسئلہ ناچنے کا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ جس خوف کے سائے تلے غلام نبی ناچ رہا ہے، وہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ غلام نبی ایک وقت آنے پر بے خوف ہو جاتا ہے۔ صاحبان، بے خوف شخص، سراسر شیطان ہوتا ہے۔ اس کی سمجھ بوجھ مستقل طور پر گروی رہ جاتی ہے اور وہ انسان نہیں رہتا، شیطان ہو جاتا ہے۔ وہ قتل کرتا ہے، وہ زنا کرتا ہے، وہ چوری کرتا ہے اور وہ ہر قبیح فعل کرتا ہے جن کے نتائج بارے سوچ کر ہم میں سے تقریباّ لوگ خوفزدہ رہتے ہیں۔
صاحبو! میں اکثر غلام نبی بن کر سوچتا ہوں، کہ خوف کا کچھ پیمانہ مقرر کروں، خود پر تنقیدی نظر ڈالوں کہ کہیں کل کلاں میں بے خوف ہو گیا تو مجھ سے بڑا شیطان اس دنیا میں کوئی دوسرا نہیں ہو گا۔ روز قیامت میں شیطان اور مولوی صاحب کے گریبان پیچھے بھاگوں گا اور خدا کے مقرر کردہ کارندے مجھے تلاش رہے ہوں گے، شیطان کو ڈھونڈ رہے ہوں گے۔

تبصرہ کیجیے

تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں

خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔

خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔

بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔