Thursday, 3 December 2009

سگریٹ نوشی صحت کے مضر ہے

دیکھیے یہ میرا قصور نہیں ہے، یہ سراسر جامعہ گومل کی غلطی ہے۔ جامعہ کی لائبریری اگر طلباء کو تدریسی کتابیں فراہم کرتی ہے تو لازمی بات ہے وہ پیسہ جو ہم گھر سے کتابوں واسطے خاص طور پر منگوایا کرتے تھے، اس کا کہیں نہ کہیں تو استعمال ہونا ہی ہوتا تھا۔ زیادہ گل جھڑیوں میں اڑا دیتے اور جو بچ رہتا، شہیدوں میں نام لکھوانے واسطے شہر میں واقع نیشنل بک فاونڈیشن میں ادبی تحریروں پر بہا آتے۔ گل جھڑیوں سے مراد وہ سگریٹ ہیں جو ہم خریدی گئی کتابوں کو پڑھتے پیا کرتے تھے۔ حضور، گالیاں مت دیجیے ہم نے تو یہ سن رکھا تھا علمی و ادبی حلقوں میں چائے اور سگریٹ کو کلیدی حیثیت عطا رہی ہے۔
سگریٹ اگر عادت بن جائے تو بتائے دوں یہ بھی میرا قصور نہیں ہے، ایسی چیز بنتی ہی کیوں ہے جس کو کوئی عادت بنا لے؟ خیر چھوڑیے، سگریٹ نہ صرف عادت بنی بلکہ سوہان روح بھی۔ جو لگا بندھا پیسہ مہینے کے خرچ واسطے ملتا تھا، بچا کر ہم یا تو سگریٹ پیتے یا پھر چائے۔ مشکل اس وقت بڑھ گئی جب دوست کو بھی سگریٹ پینے پر اس خیال سے آمادہ کیا کہ صاحب چلو "ادھار" سگریٹ مل جایا کریں گے، لیکن وہ جناب تو ہم سے بھی دو ہاتھ آگے نکلے۔ سر عام مجرم ٹھہراتے کہ یہ بد عادت ہمارے ہاتھوں ان تک پہنچی ہے اور اس کا جرمانہ دن میں آدھی ڈبیہ سگریٹ ہم سے ہی وصول کرتے!۔
جب اپنے علاوہ اپنے دوست کے سگریٹوں کا بھی خرچ ہم اٹھائے پھرتے کچھ وقت بیتا تو مسئلہ ہماری سمجھ میں آن دھمکا، ہمارا خیال تھا کہ بوجوہ اضافی خرچ ہم تھوڑے عرصے میں یہ بد عادت ترک کر چکے ہوں گے، لیکن جیسے جیسے گھر سے ماہانہ خرچ میں اضافہ ہوتا گیا یہ عادت بگڑتی گئی۔ ہمیں محسوس ہوا اگر اضافی پیسے خرچ کرنے کا متبادل ڈھونڈ لیا جائے تو یہ بد عادت اگر چھوٹی نہ تو شدت میں کم ضرور ہو سکتی ہے۔ سوچتے ہی عملی جامہ پہنانے نکل کھڑے ہوئے۔
پیسہ مسجد کے باہر لگے چندے کے ڈبے میں ٹھونس آئے، بعد میں پتہ چلا وہ مسجد کی تعمیر واسطے نہ تھا بلکہ چند لونڈوں نے شغل کے طور پر وہاں لگا رکھا تھا تاکہ ہفتے دس دن بعد لذیذ جلیبیاں کھا سکیں۔ مت ماری گئی تھی ہماری، بھلا جامعہ کے اندر مسجد واسطے چندہ جمع کرنے کی کیا تُک،؟ ہم ابھی تک سگریٹ نوشی کو اس کا الزام دیتے ہیں، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہم ہی کچھ کم عقل واقع ہوئے ہیں۔ دو ایک نسخے اور آزمائے لیکن بے سود!۔
کرنی خدا کی یہ کہ مملکت پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا سیلاب امڈ آیا، دیکھتے ہی دیکھتے یار لوگوں کے ہاتھوں میں رنگ برنگے موبائل گردش کرنے لگے۔ شوق چرایا تو ایک نسبتاً سستا موبائل ہتھیا لیا، انٹرنیٹ کی سہولت میسر تھی تو پیسہ وہاں خرچ ہونے لگا۔ پھونک پھونک کر قدم رکھا اور جامعہ کی لائبریری سے جان چھڑا کر دم لیا، کون جامعہ کی امانت گلے میں لٹکائے پھرتا رہے۔ خدا خوش رکھے وکیپیڈیا اور چند ایک دوسری شعبہ سے متعلقہ ویب سائٹوں کے موجدوں کو۔ جامعہ کے حلقہ احباب میں اپنے علم کی دھاک تو بیٹھی ہی، ساتھ میں سگریٹ نوشی سے بھی جان چھوٹ گئی۔
چند روز پہلے کچھ ایسا ہی معاملہ پھر درپیش تھا، انٹرنیٹ پر بیتائے وقت کا بڑا حصہ  ضائع چلا جاتا تھا، بحث چل پڑی وکیپیڈیا کی مشکل اصطلاحات پر۔ لگے ہاتھوں تجرباتی طور پر جا بیٹھے اس حلقہ میں، تھوڑے سست رہے مگر جب سے فراغت پاتے ہیں، وہیں جا کر دم لیتے ہیں۔ 
ہم تو صاحب اس کلیہ پر عمل پیرا ہیں کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی موجودہ سرگرمیاں منافع بخش یا مثبت نہیں ہیں تو ترجیحات بدل دیجیے!۔        

Wednesday, 11 November 2009

اصل چرسی

آپ یقین کیجیے یہ بڑا معمہ ہے، میں نے پشاور جیسا شہر آج تک نہیں دیکھا۔ کوئی کچھ بھی کہے لیکن یہ شہر پاکستان کے دوسرے شہروں سے الگ ہے۔ ہر بات نرالی، اب یہی دیکھیے کہ یہاں پر باڑہ یعنی علاقہ غیر کی سرحدیں ہیں، یہاں سمگل شدہ مال ملا کرتا تھا اور ہم شوق سے کریمیں اور ایمپیریل لیدر اصلی والا سستے داموں استعمال کے لیے لایا کرتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ برقی آلات اور کپڑا یہاں کا پورے صوبہ سرحد میں مشہور تھا۔ قصہ خوانی میں کئی بار اس شوق سے گیا کہ قہوے کے ساتھ قصے سننے کو ملیں گے۔ قہوہ توتب مل جایا کرتا تھا، قصے اب سنتے ہیں وہاں روز برپا ہونے والی قیامت کے۔
میرے وہ دوست جو عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھا کرتے تھے،سے  ہمیشہ ہی اختلاف رہا، وہ اسے "باچا خان چوک" جبکہ میں "چرگانو چوک" (مرغیوں والا چوک) کہنے پر مصر ہوتا، میں بھی کیا کرتا لوکل ٹرانسپورٹ والے اسے یہی کہتے تھے، دو ایک بار تو نظریاتی جنگ بھی چھڑ گئی تھی اس موضوع پر، وہ تو خدا خوش رکھے میرے ایک مردان کے دوست کو ورنہ پختونوں کی غیرت جاگتے کتنا وقت لگتا ہے۔
قلعہ بالاحصار کی فصیل پر چڑھ کر وہاں سے شہر کا نظارہ کرنا یقیناً دلفریب کام رہا ہو گا، ہمیں تو یہ نصیب نہ ہوا کیونکہ فرنٹئیر کانسٹیبلری کا مرکز جو ٹھہرا، پتہ نہیں ایسا کیوں کرتے ہیں یہ حکومتی لوگ۔ تاریخی و سیاحتی مقام ہے مگر دیکھ لیجیے وہاں کیا برپا ہے۔ لیکن یہ بھی ٹھیک ہی ہے، ورنہ نا جانے اب تک کتنے دھماکے ہو چکے ہوتے، فتح کرتے ان دہشت گردوں کو کتنا ہی وقت لگتا ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی تو رحمان بابا کا مزار فتح کیا تھا دھماکہ کر کے۔
میرے لیے دلچسپی کی جگہ پشاور یونیورسٹی رہی ہے، اس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی تو یہ کہ پڑھے لکھے لوگ ہیں یہاں اور دوسری یہ کہ پشاور جاؤں تو ہوٹل کا خرچہ بچ جاتا ہے۔ رات کسی کے پاس بھی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں گذارنا کافی سودمند کام ہے۔ فلمیں دیکھو، گپیں ہانکو اور مفت میں ارد گرد چرس پیتے طالبعلموں کے دھویں سے شغف کرو، کیا بات ہے!۔
بات اگر چرس کی ہو رہی ہے تو باڑہ مارکیٹ میں پہلے پہل وہ مارکیٹیں بھی تو ہوا کرتی تھیں۔ کافی عرصہ ہوا اس طرف جانا نہیں ہوا، لٹ جانے کا ڈر اور پولیس کے بے تکے سوالوں کے جواب اب کون اور کہاں تک دے۔ مجھے یاد ہے ایک باریش شخص، وہ سر اوپر شراب سجائے، منہ کے سامنے چرس کے پرت رکھے، غیر قانونی بجلی سے روشن ہیٹر کو تاپتے ہوئے مسلسل تسبیح پر کچھ ورد کیے جاتا تھا اور دکان کے باہر شیشے پر جلی حروف میں تحریر تھا، "بسم اللہ چرس شاپ"!۔
اچھا اگر تو کوئی پشاور گیا ہے اور اس نے نمک منڈی میں کھانا نہیں کھایا، میرے خیال میں وہ محروم رہ گیا۔ روایتی کھانا "نمکین" تو ضرور کھایا  لیکن اصل مزہ تو بھئی مجھے "چرسی تکہ شاپ" کا ہی آیا۔ تکے تو خیر آجکل وافر دستیاب ہیں، انسانی بھی لیکن سب سے مذیدار پہلو چرسی تکہ شاپ والوں کا بزنس کارڈ ہے جس پرتحریر ہوتا تھا، "پشاور میں اصلی چرسی ہم ہی ہیں، ہمارے علاوہ دوسرے سارے چرسی نقلی ہیں، ہوشیار!"۔
پشاور نے کافی ترقی کر لی ہو گی، لگتا تو ایسے ہی ہے۔ پہلے شام پڑتے ہی صرف تہکال سے گولیاں چلنے کی آوازیں آیا کرتی تھیں، اب سنا ہے پورا شہر دھماکوں سے گونج رہا ہے۔۔۔۔ آہ۔

Saturday, 24 October 2009

سوگ بنا روگ

 گذشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔ سوگ
یہ غالباً زلزلے کا نواں روز تھا، جب میں نے پہلی بار غور سے دنیا کو دیکھا۔ میرامطلب یہ ہے کہ نو روز میں جنازے دفنا چکنے اور مریضوں کو ہسپتال اور عزیزوں کو خیموں میں گھسیڑ دینے کے بعد میں نے غور کیا کہ میرے ہموطن کتنا درد رکھتے ہیں۔ کتنی دور سے کتنی امداد پہنچی، لوگ کدالیں اٹھائے جوق در جوق شہر میں داخل ہوتے اور شام کو پیدل واپس چل دیتے، یہ  سارا دن مقامی لوگوں کے ہمراہ جنازے دفناتے،  زخمیوں کو دوا اور غمزدوں کو سینے سے لگائے  رہتے۔  کیسے میرے وطن کے عام لوگوں نے میرے زخموں پر کو مندمل ہونے میں مدد کی،  یقین کیجیے،  میں زندگی بھر یہ قرض نہ اتار پاؤں گا۔
یہ سوگ جاری ہے، اس نسل کے لیے یہ سوگ جاری رہے گا، قبر میں بھی شاید پیچھا نہ چھوڑے۔ میں بالاکوٹ میں اپنے گھر کے ملبے پر آج چار سال ہوئے ، آخری لاش دفنا چکنے کے بعد نہیں گیا، مجھ پر وحشت طاری ہو جاتی ہے۔
خیر، جب سارے جنازے دفن ہو چکے تو میں اپنے بھائی اور دوسرے  زخمی عزیزوں کی خبر لینے ہسپتال پہنچا۔ یہاں بھی وہی حال، لوگ کیسے خدمت میں مشغول، کوئی دوا بانٹ رہا، کسی نے زخمیوں اور ان کے تیمارداروں واسطے کھانے کا بندوبست کیا تو کوئی کمبل کپڑے لا رہا ہے تا کہ بڑھتی سردی سے تمام متاثرین کو بچایا جا سکے۔ میں حیرت زدہ تھا۔
پھرایک جمعتہ المبارک آیا اور میں مسجد پہنچ گیا۔ وہاں خطیب صاحب کوس رہے تھے کہ زلزلہ ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ سود خوروں کو سزا ہے، یہ زناکاروں کو عذاب ہے۔ یہ جھوٹوں کو خدا کا چانٹا، جبکہ زلزلے سے تین دن پہلے ہوئے الیکشن میں جھوٹی گواہیاں دینے والوں کو خدا کی لاٹھی کی پہلی ضرب۔ میں نماز پڑھے بغیر چلا آیا۔ مجھے بالکل سمجھ نہ آئی کہ میرے قصبے کے مرنے والے ڈھائی ہزار لوگوں میں کون کون سود خور، شرابی، زناکار اور کتنے ان میں جھوٹے گواہ تھے۔ میں سوچنے لگا کہ کیا تہتر ہزار جو فوت ہوئے، کیا شہید تھے یا ہلاک؟
وقت گذرا تو مجھے حیرت ہوتی، کئی تو ایسے تھے کہ افسوس کا اظہار کر چکنے کے بعد کہتے، "دیکھیے ناراض مت ہوئیے گا، میں نے سنا ہے کہ بالاکوٹ میں برائی حد سے بڑھ چکی تھی؟"  یا پھر، "شہید ہیں جی، لیکن میں نے سنا کہ مارگلہ ٹاور میں کئی طرح کی خرافات، جیسے شراب نوشی  عام تھی اور اسلام آباد کے ٹاپ رشوت خور وہاں رہائش پذیر تھے؟"
میں نے کبھی بھی ایسے سوال کا جواب نہیں دیا اور پوچھنے والا خاموشی کو نیم نہیں بلکہ پوری رضامندی سمجھ کر حسب توفیق بات آگے پھیلا دیتا۔ مجھے افسوس نہیں ہوا، نہ ہو گا۔  اب بھی میں بالاکوٹ جاتا ہوں تو  اپنے سمیت ہر چہرے میں زناکار، سود خور، رشوت خور، جھوٹے گواہ اور شراب نوش ڈھونڈتا ہوں تاکہ اس سے پوچھ سکوں کہ تم نے آخر ایسا کیوں کیا کہ میرے پورے شہر کو تم نے "مرحوم" کر دیا۔ یہ سوگ نہیں ہے دوستو! اب  یہ روگ ہے!
زخم مندمل ہو گئے، جو مر گئے تھے آج بھی فاتحہ پڑھ لوں تو سکون مل جاتا ہے، مگر خطیب صاحب اور ان ہمدردوں کی اس بات پر کیسے صبر کر لوں کہ دنیا کی ساری برائیاں بالاکوٹ میں تھیں اور اس کی سزا  اتنی بھیانک تھی؟
ختم شد

Thursday, 22 October 2009

مقدمہِ انٹرنیٹ

افضل صاحب نے شروعات کیں، راشد کامران سے ہوتے ہوئے براستہ جعفر کے حال دل مجھ تک یہ کڑی پہنچی ہے۔ تو لیجیے حاضر ہیں جوابات کے بھیس میں چند مغالطے:۔
سوال نمبر ۱: انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کب مجھے انٹرنیٹ میسر آجائے۔ پہلے پہل جب میں صرف ڈیسکٹاپ کمپیوٹر استعمال کیا کرتا تھا تو غالباً سارے دن میں شاید چار سے پانچ گھنٹے انٹرنیٹ پر بسر ہوا کرتے تھے، لیکن اب تو اس موئی نوٹ بک اور موبائل پر انٹرنیٹ پیکجز کی وجہ سے بارہ سے چودہ گھنٹے۔ بعض لوگوں کے لیے شاید یہ کم ہی ہوں لیکن مجھے زیادہ مسئلہ اس لیے بھی ہے کہ میرے کام کی نوعیت شاید اس سے میل نہیں کھاتی، سو ہمہ وقت کافی مسئلہ رہتا ہے وقت تقسیم کرنے میں۔ سوچ رہا ہوں کہ روٹین بدلی جائے، یہ کسی طور بھی مثبت نہیں ہے۔

سوال نمبر ۲: انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
دیکھیے، بات یہ ہے کہ تبدیلی تو ہر ایک چیز کے ساتھ آتی ہی ہے، مثبت یا منفی! یہ منحصر ہے بندے پر، یا حالات پر۔ جہاں تک رہن سہن کی بات ہے تو میرے خیال میں دو ایک چیزیں بڑی اہم ہیں۔ شخصیت، یعنی کہ اپنے آپ کو اور لوگوں کو سمجھنے میں اب کافی آسانی رہتی ہے، اور میرے دو ایک دوست سمجھتے ہیں کہ میں پہلے کی نسبت سے بہتر"انسان" بن گیا ہوں۔ معاشی تبدیلی تو ہے ہی انٹرنیٹ کی بدولت میری زندگی میں، کیونکہ میں تو انٹرنیٹ کو ہی استعمال کر رہا ہوں ریفرنس کے طور پر، کتابیں بھی یہیں پڑھتا ہوں میں، اور پھر اسی علم کو استعمال بھی کرتا ہوں۔ اسی طرح اور کئی معاشی فائدے جو کہ فری لانس لکھائی سے حاصل ہوتے ہیں تو وہ کافی مددگار ہیں میرے رہن سہن اور طرز زندگی میں۔ جہاں تک بات ہے زندگی، سماج اور گھر کی تو دھیرج رکھیے، جواب آیا ہی چاہتا ہے۔
سوال نمبر ۳: کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟
حضور، جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ایک طرح سے انٹرنیٹ دکان کی سی چیز ہے۔ یعنی اللہ جی نے اس کو میرے رزق کا وسیلہ بنایا ہی ہے، ساتھ میں نئے تعلقات بھی بڑھتے رہتے ہیں، اور سرراہ شہر کے وسط میں بیٹھا ہوا دکاندار رزق کماتا ہے تو ساتھ میں معلومات اور خبر بھی رکھتا ہی ہے، تو جیسے ایک دکان ایک دکاندار کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے تو بالکل ایسے ہی میری زندگی پر بھی یہ اثر انداز ہوا ہے۔ یونیورسٹی اور اب بھی جب میں دفتر یا گھر سے باہر ہوتا ہوں، پھر تو ٹھیک ہے کہ میں کام کر رہا ہوں۔ لیکن مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب میں یہ دکان گھر پر بھی سجائے بیٹھتا رہتا ہوں۔ نہ صرف مجھے، بلکہ گھر والوں کو بھی مسئلہ ہونا ایک قدرتی امر ہے۔
انٹر نیٹ پر اچھے دوست ملے ہیں، بہت پیار کرنے والے، اچھی بات ہے لیکن ان کا کیا جو میری گلی میں رہتے ہوئے مجھ سے بچھڑ چکے ہیں؟۔ 
سوال نمبر ۴: اس علت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟
نہیں اب تک تو نہیں، چان تو خیر نہیں چھوٹ سکتی، البتہ یہ ارادہ ضرور ہے کہ اس کو کسی طرح سے حد میں رکھا جائے۔ یعنی کچھ ایسا ہو جائے کہ یہ جو افراتفری بنی پڑی ہے زندگی میں وہ تھم جائے۔ میں بس یہ چاہتا ہوں کہ جب ہر دن ختم ہونے کو آئے تو بھاگ دوڑ کے بعد کچھ وقت تنہا، اپنے آپ کے ساتھ بیت سکے۔
علت شاید سارا انٹرنیٹ نہیں ہے، بلکہ اس کا بہت ہی قلیل حصہ ہے، تو میں صرف اس سے جان چھڑانا چاہ رہا ہوں، آپ صاحبان ہی کچھ مشورہ دیجیے، اپنی سمجھ میں تو کچھ نہیں آ رہا۔

 سوال نمبر ۵: کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
میری نوکری کی نوعیت ایسی ہے کہ مجھے ہر آئے دن ایک نیا پہاڑ سر کرنا پڑتا ہے، تو جناب میں اگر نہ بھی چاہوں، انٹرنیٹ بھلے مجھے روکے مجھے وہ "آؤٹ ڈور" کھیل تو کھیلنا ہی ہوتا ہے، تو جواب ہے نہیں!۔
 اسی ڈوری میں اب میں باندھوں گا، کامران اصغر کامی، شاہدہ آپی، بلو بلا، اور عبدالقدوس کو۔   

Saturday, 10 October 2009

سوگ

بالاکوٹ سے کوئی بارہ کلومیٹر باہر بے ہنگم ٹریفک اورسلائیڈنگ کی وجہ سے جب ہم نے پیدل شہر کی جانب سفر شروع کیا تو ابھی بالاکوٹ پہاڑوں میں کہیں اوجھل تھا، یہ تو نظر پڑتے ہی معلوم ہوا کہ بالاکوٹ تو حقیقتا گم ہو چکا ہے، بہتر ہے کہہ لیجیے کہ مرحوم ہو چکا تھا۔
مرحومین سے میری پرانی آشنائی ہے، جب سے ہوش سنبھالا ہے سال میں ایک آدھ مرحوم سے ملاقات ہو ہی جاتی ہے۔ دادا، نانا اور نانی کے رشتے سے میں قطعا ناآشنا ہوں، کیونکہ وہ سب تو میری پیدائش سے پہلے ہی جا چکے تھے، تایا میرے اس دنیا میں آنے سے دس سال پہلے قتل کر دیے گئے، اور گھر میں جو بچ رہے وہ زندہ لاشیں تھی۔ میں اکثر سوچا کرتا کہ میری دادی اماں اتنی سخت طبیعت کیوں ہیں؟
مُردوں سے مجھے کبھی ڈر نہیں لگا، ہاں بین کرتی عورتوں سے مجھے بڑی وحشت ہوتی۔ میں اپنے عزیزوں کے ہر ماتم والے گھر میں پہنچ جاتا اورٹانگوں تلے رینگتے ہوئے جنازےکے عین سامنے منہ کی جانب پہنچ جاتا اور پھر وہاں گھنٹوں اکڑوں بیٹھا رہتا۔ دروازے سے داخل ہوتے ہی ہر عورت اونچی آواز میں بین کرتی، ہاتھ ملتے ہوئے مرحوم کے گھر والوں سے لپٹ جاتی اور بھیانک ماتم مجھ پر جیسے کپکپی طاری کر دیتا۔ جب ساری عورتیں بین اور مرد خاموش کھڑے مرحوم کو تک رہے ہوتے تو میں من ہی من ، مردے سے باتیں کرتا رہتا۔ میں اسے مخاطب کرتا اور دل میں ہی اس سے پوچھتا کہ وہ ایک ہی رخ پر اتنی دیر سے سانس بند کیے کیسے لیٹتا ہے!۔
ابا کی وفات کے تیسرے دن مجھے ایسے لگا کہ جیسے دنیا خالی ہو گئی ہو، میں خالی ذہن رات کو بستر پر لیٹا تھا کہ اچانک پچھلے دس سالوں سے جتنے بھی عورتوں کے ماتم دیکھے اور سنے تھے ، میرے کانوں میں بجنے لگے اور میری آنکھوں کے سامنے بین کرتی عورتیں گھومنے لگیں۔ یہ پہلی بار تھی کہ مجھے بہت ڈر محسوس ہوا۔
ابا کے جانے کے بعد عید، عید نہ رہی۔ بی بی جی موقع ملتے ہی روتیں، چھپ کر روتیں یا پھر گھر آئے عزیزوں کے ساتھ مل کر روتیں۔ گھر میں وحشت پھیل گئی تھی، مجھے گھر آئے مہمانوں سے نفرت ہو گئی، کیونکہ جب بھی کوئی عزیزہ چکر لگا جاتیں تو اس کی موجودگی اور پھر جانے کے بعد گھنٹوں بی بی جی روتی رہتیں، میں نے کبھی کوشش نہیں کی کہ بی بی جی کیا باتیں کرتی ہیں مہمانوں سے اور پھر وہ سارے مل کر روتے رہتے ہیں۔ اس دوران میں یا تو میں کسی کونے کھدرے میں گھس جاتا یہ آنکھ بچا کر گلیوں میں بے مقصد پھرتا رہتا۔ نہ جانے کیسی وحشت تھی کہ میں اب تک من کی گلیوں میں بے مقصد پھر رہا ہوں۔
زندگی ایسے ہی گذر رہی تھی کہ ، یونیورسٹی میں ایک دن اطلاع آئی کہ اب کے پورا شہر ہی زمین بوس ہو گیا ہے، مجھے قطعا یقین نہ آیا۔ دس بارہ دوست میرے ساتھ ہوئے اور جب ہم شہر میں داخل ہوئے تومیرے ایک چچا زاد نے مجھے دیکھا اور دیکھتے ہی مجھ سے لپٹ گیا، دیر تک بین کرتا رہا۔ کیا کرتا، اب کے شاید عورتیں بین جوگی بھی نہ رہی تھیں۔ مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ اگر کوئی مرد بین کرے تو وہ بڑی بھیانک ہوتی ہے، میرے ساتھ چلتے ہوئے کوئی ڈیڑھ کلومیٹر تک وہ اب تک دفنا ئے جانے والے عزیزواقارب کے نام گنوا چکا تھا ، اور اگلی منزل تک مجھے ابھی دفنائے جانے والے اور گمشدہ عزیزوں کی جانکاری ہو چکی تھی۔ باقی کے ہم وطنوں بارے دو سال لگے، یہ معلوم کرنے کہ مر کھپ گئے یا ابھی سانسیں چل رہی ہیں!۔
اپنے گھر کے ملبے تک پہنچتے پہنچتے ، ارد گرد بکھری لاشیں گنتے، ملبے تلے سے باہر کو نکلے بازؤں سے مرحومین کا اندازہ لگاتے جب میں اپنے گھر کے ملبے پر پہنچا تو میں سمجھ چکا تھا کہ میری دادی اماں اتنی سخت طبیعت کیوں تھیں۔ کدال سے کھدائی کرتے اور جنازوں کو کندھے دیے جب ڈیڑھ فٹ کی قبروں میں اترتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ دراصل مرحوم کیا ہوتا ہے ۔ جب شہر پر شام آتی تو ملبے پر اکڑوں بیٹھے، کپکپاتے ہوتے مجھے اندازہ ہوتا کہ دراصل خاموشی، بین سے بھی زیادہ وحشت ناک ہوتی ہے۔
(زلزلے کے چار سال مکمل ہونے پر تحریر کی گئی :جاری ہے)۔

Thursday, 24 September 2009

عامل اور کامل

ہم تو آج تک مرد کا "کامل" ہونا کسی اور ہی "خوبی" کو سمجھتے تھے، یہ تو اب پتہ چلا کہ ایک مرد کے "کامل" ہونے کی تین نشانیاں بیان کی جاتی ہیں، ایک تو نشانیاں تین ہیں پھر تینوں ہی اپنے بل بوتے پرپوری کرنے کی شرط بھی، ہمیں تو یہ شرط ہی کاملیت کی بڑی نشانی محسوس ہوئی ورنہ یار لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص شادی کر لے، مکان بنا لے اور ایک عدد مقدمہ جیت جائے وہ "کامل" کہلائے گا۔
کامل اور عامل میں ہمیں فرق کچھ اتنا خاص محسوس بھی نہیں ہوتا، دونوں ہی کمال کرتے ہیں۔ بندہ اب کیا کیا کرے، شادی، مکان اور پھر اس دقیانوسی نظام میں ایک عدد مقدمہ جیتنا، یا تو کامل کر سکتا ہے یا پھر عامل، میرے جیسا بندہ تو ہاتھ اوپر کیے دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔
اردگرد دیکھیں تو دو ہی لوگ موجود ہیں، کامل یا پھر عامل۔ میری ذاتی رائے میں تو کامل بھی کبھی عامل ہی رہے ہوں گے، اب یہی دیکھ لیجیے کہ محلے کے مولوی صاحب نے ایک چھوڑ چار چار شادیاں کر رکھی ہیں۔ سوکن کے انتقام کی تو داستانیں ہی سن کر ہمیں غش آ جاتا ہے اور یہ چار چار کو سنبھالنا۔ خدا کی پناہ! عامل نہ کرے تو کون کرے؟
عاملوں کے بیسیوں قصے مشہور ہیں، جو یہاں بیاں کرنے سے تعلق نہیں رکھتے۔ بیاں نہ کرنے کا فائدہ نہیں کیوں کہ ہم سب ہی ان سے واقف ہیں۔ سو اگر تو آپ کامل بننا چاہتے ہیں تو جناب صرف عاملوں کے طریقہ واردات کو سمجھنے تک محدود رہیے ورنہ کل کلاں آپ بھی تعویذ، گنڈے، کالا پیلا جادو ہی کرتے رہ جائیں گے، کامل نہ بن پائیں گے۔
نسخہ بڑا آسان ہے، آزمانے سے پہلے بس اپنے ضمیر کی کھڑکی کو احتیاط سے مقفل کر دیجیے کہ کھلنے نہ پائے اور عاملوں کے طریقہ واردات پر غور وخوض شروع کر دیں۔ عامل ایک کام کیا کرتے ہیں جو ہمارے آپ جیسے لوگوں کی مجبوریوں سے متعلق ہوتا ہے۔ مثلاًکسی کا بیٹا نافرمان ہو تو کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، سوائے یہ کہ کوئی عامل کوئی تعویذ لکھ دے جو پلانے یا باندھنے سے وہ فرمانبردار ہوجاوے۔
تو قصہ مختصر یہ کہ ایک عامل کی مانند آپ بھی کچھ مجبور ڈھونڈ لیں، ڈگری تو آپ کے پاس ہے ہی، اگر ڈاکٹر ہیں تو علاج کیجیے تب تک، جب تک لاعلاج نہ ہوجائے۔ وکیل ہیں تو گھمائیے تھانے کچہری میں اپنا فن، پرواہ بالکل بھی مت کیجیے کیونکہ آپ کے فن سے ہی تو منشی، تھانیدار، عرائض نویسوں کے گھر چل رہے ہیں۔ آپ کچھ بھی نہیں کرسکتے تو سیاستدان ہی بن جائیے!۔ غرض یہ کہ جناب آپ کسی بھی شعبے میں ہیں، اپنی مرضی، اختیار اور حسب توفیق اپنا گندا ناچ دکھا سکتے ہیں، کامل بننے میں بس تھوڑا ہی عرصہ لگے گا۔ اسی کھینچ تان میں حضور آپ کے لیے شادی کرنا، مکان بنانا اور مقدمے جیتنا لڈو کے سانپ والے کھیل سے زیادہ مشکل نہیں ہو گا۔ آزمائش شرط ہے، غلط ثابت کرنے والے کو منہ کی کھانی ہی پڑے گی!۔

Wednesday, 9 September 2009

بھایا، تجھے کیا بھایا؟۔

بھایا پر مجھے بڑا ترس آتا ہے، بلکہ ترس اور رشک بھی۔ وہ بڑی آسامی ہے، مطلب اس کا بڑا ڈپو ہے جہاں کریانے کی ہر چیز ملتی ہے۔ بھایا، شاید اس دکان کے مالک کا نام ہو، اکثر میں سامان خریدتا ہوں مگر کبھی اس سے یہ بات نہیں پوچھی، لیکن میں اور تمام لوگ اسے بھایا اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی دکان کا نام یہی ہے، یعنی "بھایا جنرل سٹور"۔
بھایا خود پکی عمر کا تبلیغی آدمی ہے، یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن اب مشکل یہ ہے کہ اس کے تین بیٹے بھی ہیں جو بالکل اسی کی طرح کے ہیں اور اکثر ان میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بھایا بہرحال سفید کالی داڑھی سے پہچانا جا سکتا ہے۔
اس کے ڈپو کی خاصیت سرسوں کا تیل ہے، جو پہلے تو وہ خود اپنی "گھانڑی" جسے اردو میں پتہ نہیں کیا کہتے ہیں، میں دو بیلوں کی مدد سے حاصل کرتا تھا، اب مانگ بڑھ جانے کی وجہ سے اور بیلوں کے "آؤٹ ڈیٹڈ" ہونے کی وجہ سے مشینوں کی مدد سے لیتا ہے، بھایا کی دکان کا تیل اتنا مشہور ہوا کہ اس گلی کا نام ہی "تیلی گلی" پڑگیا۔
آج شام کو جب میں اپنے دوستوں کے ساتھ افطاری سے عین پہلے روایتی مٹرگشت پر نکلا تو اس کی دکان کے سامنے سے گذر ہوا۔ تیلی گلی انتہائی گنجان آباد جگہ ہے، اور سورج کی روشنی کی وہاں تک رسائی ناممکن ہے کیونکہ ایک تو وہ بڑی تنگ گلی ہے اور دوسرا عمارتوں نے اسے ڈھک دیا ہے۔ شام کا وقت تھا، دن کو بھی گذرو تو لگتا ہے کہ شام ہے، شام کو گذرے تو لگا رات ہے۔
بھایا اپنی نگرانی میں اپنی دکان، گوداموں اور "گھانڑی" کو تالے لگوا رہا تھا، جبکہ اس کے بیٹے اس کے ساتھ کھڑے جلدی سے گھر پہنچنے کی سوچ میں تھے تو مجھے بھایا پر بڑا ترس اور ساتھ میں رشک آیا۔ رشک تو یہ کہ بندہ نوٹوں میں کھیل رہا ہے اور اپنی محنت پر کتنا نازاں ہوگا، مگر ترس یوں آیا کہ کیسے اس نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ اس اندھیر گلی میں گذار دیا، صبح منہ اندھیرے یہاں آتا ہے اور شام اندھیرے میں گھر لوٹ جاتا ہے۔ ایس زندگی کا کیا فائدہ؟۔
اس نے کبھی ناغہ تو کیا نہیں،ہاں صرف جمعہ کی نماز، عید کے دن کے یا پھر فوتگی کی صورت میں، اس کی دکان اس کے علاوہ تو میں نے کھلی ہی دیکھی ہے۔ شادی بیاہ پر شاید چھٹی نہیں کرتا، کبھی دکان کے شٹر پر نوٹس نہیں لگا دیکھا شادی کا!۔