تجسس
تبصرہ کیجیے
تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں
خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔
خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔
بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
قافلۂ نکہت غم
تبصرہ کیجیے
تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں
خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔
خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔
بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
جنوبی پنجاب میں۔۔۔: خود ساختہ خدا
صاحبو! خدا کی تقسیم کسی کی سمجھ میں نہیں آئی۔ اس کی مصلحت کون جانے؟ یہی حال یہاں کے خود ساختہ خداؤںکا ہے۔ میں پچھلے آٹھ ماہ سے غور کر رہا ہوں، آپ بھی آج ہی غور کیجیے کہ یہ جنوبی پنجاب وہ علاقہ ہے جہاں سے ہمہ وقت پاکستان کی قومی سیاست کے ستونوں کا وجود رہتا ہے۔ پاکستان کی سیاست کے کئی بڑے نام جیسے؛ غلام مصطفی کھر ، نوابزادہ نصراللہ خان، یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی، حنا ربانی کھر، سردار لطیف کھوسہ، سردار فاروق لغاری، سردار اویس لغاری، جاوید ہاشمی اور ایسے کئی دوسرے قد آور نام جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ صاحبان ایک یا دوسری صورت پاکستان کی سیاست کے کلیدی کردار رہے ہیں اور ان عہدوں پر فائز ہوئے جن پر ملک کے کئی حصوں کے لوگ بس تمنا کرتے ہیں مگر صاحبو یہاں پر ترقی نام کی وہ شے بھی دکھنے کو نہیں ملتی جو کئی ایسے علاقوں میں نظر آتی ہے جہاں کے صرف ایم این اے اور ایم پی اے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے۔ صاحبو، یہ بہت عجب بات ہے کہ ہم غربت کا رونا روتے ہیں، اور اظہار ہمدردی بھی جتاتے ہیں مگر بتائیے تو زرا کہ اس میں کس کا واقعی قصور ہے؟
اپنے وزیر اعظم صاحب نے ملتان شہر میں فلائی اوورز، اور شہر سے باہر بھاری ٹریفک کے لیے متبادل سڑکوں کا جال پھیلا دیا ، مگر تھوڑی دور مظفر گڑھ کی ایسی یونین کونسلیں بھی ہیں جہاں آج بھی کھانے کو صرف ایک وقت کا کھانا میسر ہے، وہ بھی صرف جزوی بھوک مٹانے کے جتنا۔ ڈیڑھ سال پہلے تک یہ خیال تھا کہ ملتان شہر میں اب گیلانی کے امیدوار کو شاید ہی کوئی ہرا سکے اور شاہ محمود قریشی صاحب اسی خوف سے پیپلز پارٹی سے چمٹے رہے ۔۔۔ یہاں تک کہ سرائیکی صوبے کا نعرہ بلند ہوا۔ ملتان شہر میں بہایا گیا سارا خرچہ دھرے کا دھرا رہ گیا اور انھی فلائی اوورز پر چند دن پہلے میں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں سے بھری بسیں دیکھیں جو اس جلسے میں شریک ہونے آئے تھے جس کا نعرہ جنوبی پنجاب کے لیے صوبہ حاصل کرنا تھا۔ صاحبو، اتنا کچھ بدلا سرائیکی صوبے کے نعرے نے ،کہ شاہ صاحب کو اتنی ہوشیاری آ ہی گئی کہ ان کا گزارہ پیپلز پارٹی کے سوا بھی ہے۔ وہ شاہ، گیلانی اور سردار نوابزادے جو دو سال پہلے تک صوبے کے انتہائی خلاف تھے، آج اس کے علمبردار بننے پر مجبور ہیں۔ اپنے، گیلانی صاحب یقینا ملتان کے فلائی اوورز کو دیکھ کر خون کے آنسو روتے ہوں گے۔ اتنا روپیہ شاید ان کی اگلی دو تین نسلوں کے لیے کافی رہ سکتا تھا۔
ملتان سے باہر نکلیے، تو حال اور ہے۔ ضلع مظفر گڑھ کا درمیانی علاقہ تھل ہے جہاں قحط کا خطرہ جبکہ وہ علاقے جو دو اطراف سے دریائے چناب اور دریائے سندھ سے متصل ہیں وہاں ہر وقت سیلاب کا ڈر طاری ہے۔ سکولوں میں بچے نہیں بھینسیں پائی جاتی ہیں اور بنیادی سہولیات تک رسائی تو دور کی بات، بنیادی حقوق بھی سلب ہیں۔ سیلاب کے بعد ہونے والے امدادی کاموں میں جو "شیلٹر" جس کی قیمت کوئی تیس ہزار روپے بنتی ہے، کے بارے لوگوں سے معلوم کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ انھیں "پکا" گھر میسر آ گیا ہے اور ایسا گھر شاید وہ اپنی پوری زندگی محنت کر کے تعمیر نہ کر پاتے۔ اسی طرح ایک خاتون، جنھیں چند مرغیاں پالنے کو دی گئی تھیں سے ان کے گھرکی معیشت پر ان مرغیوں سے پڑنے والے مثبت اثرات بارے دریافت کیا گیا تو اس خاتون کا جواب چونکا دینے والا تھا کہ،
"خان صاحب، پہلاں میرے گھار ،ڈیوار چ ہکو ٹیم سالن ہوندا ای، ہن میرے بالاں واسطے ڈوھ ٹیم کھاون دا بندوبست تھی ویندے"
(خان صاحب، پہلے میرے گھر میں دن میں ایک وقت کا سالن پک پاتا تھا، اب میرے بچوں کے لیے دو وقت کے کھانے کا بندوبست ہو جاتا ہے)۔
گندم یہاں کی اصل زر ہے۔ جس کے گھر میں سال بھر کے راشن کو گندم میسر ہے، وہ بادشاہ ہے ، اور یہاں بادشاہ صرف سید بادشاہ ہیں یا پھر سردار/نواب صاحبان۔ یہاں خواتین دن بھر مشقت کرتی ہیں، اور گھر کی بیگار الگ۔ کپاس کی چنائی کے ان کو دن بھر کی محنت کے ساٹھ سے اسی روپے دیہاڑی اجرت ملتے ہیں، اور مرد حضرات کو بمشکل ڈیڑھ سو روپے دیہاڑ ملتی ہے جسے یہ "تازی مزدوری" کے نام سے پکارتے ہیں۔ تازی مزدوری مل گئی تو شام کو شکم سیر ہو کر بلے بلے، ورنہ بھوک سے بلبلاتے بچوں سمیت اس خاندان کی جو "ہائے" نکلتی ہے، مجھے نہیں معلوم خدا ان کو کس پر گرانے کو محفوظ کرتا جا رہا ہے۔
تبصرہ کیجیے
تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں
خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔
خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔
بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
جنوبی پنجاب میں۔۔۔: ملتانی جغرافیہ
ملتان کو ناپنا ہو تو آپ کو چونگیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے، عام لوگ بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ میں چھ نمبر اور نو نمبر چونگی کے بیچ کے علاقے میں رہائش پذیر ہوں، چوک کمہاراں نو نمبر چونگی سے آگے چوک رشید آباد کے بالکل دوسری جانب کی نکڑ پر واقع ہے اور اگر آپ چھاؤنی کی جانب جائیں تو آپ کو سات نمبر چونگی سے ہو کر جانا پڑتا ہے۔ چونگیاں کب کی ختم ہو گئیں مگر سنگ میل جوں کے توں قائم ہیں۔ اس لحاظ سے ملتان بائیس چونگیوں پر مشتمل ہے۔ بائیس چونگیاں میرے علم میں ہیں، شاید اس سے بھی زیادہ ہوں گی ویسے ہی جیسے ملتان شہر کا مخصوص رنگ ہی میں پچھلے آٹھ ماہ میں جذب کر پایا ہوں۔
آپ نے اگر سکولوں، کالجوں اور جامعہ کی بات کرنی ہے تو نو نمبر سے اس طرف چھ نمبر اور پھر شمالی بائی پاس تک کا علاقہ ناپ میں لائیے۔ اچھا سوہن حلوہ حسین آگاہی میں ملتا ہے، کشیدہ کاری اور رنگ برنگے کڑھائی والے لباس و دوپٹے بھی حسین آگاہی سے ہی مل پاتے ہیں۔ ملتان آرٹ کونسل اور نشتر کا علاقہ ایک ہے ، ڈیرہ اڈا میرے خیال میں گاڑیوں کے سامان کے لیے مشہور ہے اور خواہ مخواہ رش میں پھنس کر وقت برباد کرنا ہے تو گھنٹہ گھر اور آس پاس کے بازاروں میں داخل ہو جائیے۔ گھنٹہ گھر کے بالکل اوپر ایک پہاڑی سی ہے جسے قلعے کا نام دیا گیا ہے، حالانکہ وہاں قلعہ نہیں بلکہ ملتان کے مشہور مزارات ہیں اور ساتھ ہی ملتان کا پرانا کرکٹ اسٹیڈیم واقع ہے۔ ملتان میں یہ واحد پہاڑی نما علاقہ ہے جس کی کوئی بھی صورت قدرتی نہیں ہے اور عام خیال ہے کہ یہ پہاڑی پرانے زمانے کے ملتان شہر کا سکڑا ہوا علاقہ ہے جو کہ کسی آفت کی وجہ سے سمٹ کر پہاڑی بن گیا۔
ملتان میں ریلوے سٹیشن، نشتر میڈیکل کالج، ایک جامعہ (بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی)، ائیر پورٹ، ملتان آرٹ کونسل، انڈسٹریل اسٹیٹ، گھنٹہ گھر، وہاڑی چوک، ڈیرہ اڈا، جیل روڈ، عیدگاہ، کتھولک گرجا گھراور کئی دوسرے چیدہ چیدہ مقامات ہیں۔ شہر سے باہر فوجی چھاؤنی واقع ہے، جو ویسی ہی ہے جیسی ہر بڑے شہر میں ہوا کرتی ہے۔
ملتان شہر میں کئی مزارات ہیں، جن میں شاہ رکن عالم، بہاؤ الدین زکریا اور الشمس تبریز کا مزار مشہور ہیں۔ میں پچھلے آٹھ ماہ میں باوجود کوشش کے ایک بھی مزار میں داخل نہیں ہو پایا۔ ہمت بھی نہیں ہوتی، اور ساتھ مجھے ڈر رہتا ہے کہ شاید مجھ پر وہ حال طاری ہو گا جو ایک بار لاہور میں داتا گنج بخش کے مزار پر برپا ہوا تھا۔ رمضان میں رات کے پچھلے پہر کوشش کی تو اس مقام سے ہی دبے پاؤں واپس لوٹ آیا جہاں داخلے کی پہلی رکاوٹ نصب ہے۔ داتا کی نگری میں ایسا نہیں ہوتا تھا، یا شاید اب بم دھماکوں کے خطرے کی وجہ سے رکاوٹیں نصب کی ہوں۔
ملتان کی ایک خصوصیت یہاں کے طوائف گھر بھی ہیں۔ جنوبی پنجاب بارے ایک مفصل رپورٹ ہاتھ لگی تھی جس کے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ ملتان پنجاب اور کسی حد تک سندھ اور صوبہ سرحد میں طوائف گھروں کو نو عمر لڑکیوں کی فراہمی کا مرکز ہے۔ ملتان کے آس پاس کے اضلاع جیسے مظفر گڑھ، لیہ، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، جھنگ وغیرہ میں غربت نے خوب اپنا رنگ دکھایا ہے اور کئی قسمت کی ماری لڑکیاں وہاں سے ملتان اور پھر باقی علاقوں میں بطور جنس فراہم ہوتی ہیں۔
اس بارے، مزید تحاریر میں حال ضرور پڑھیے گا۔
تبصرہ کیجیے
تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں
خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔
خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔
بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
جنوبی پنجاب میں۔۔۔ مولتانی ملتان
ملتان کی کئی سوغاتیں ہیں۔ ان میں سے دو معروف ترین آم اور گرمی ہیں۔ اولیائے کرام کے مزارات سے آمدنی، ظروف، قالین اور کشیدہ کاریاں یہاں کی مزید پیداوار ہیں۔یہاں کے آم نہایت لذیذ جبکہ گرمی انتہائی شدید ہوتی ہے۔ یہاں کے باسی اور باہر سے وارد ہونے والے تمام ہی لوگ ان دو سوغاتوں سے بھرپور فیض یاب ہوتے ہیں جبکہ باقی کی پیداواروں کا ایسا ہے کہ وہ کسی کے لیے لذیذ جبکہ باقیوں کے لئے انتہائی شدید کوفت کا باعث ہیں۔
جب برصغیر میں اسلام وارد ہوا تو کہتے ہیں کہ محمد بن قاسم نے ملتان تک کا علاقہ فتح کیا تھا۔ تب اولیائے کرام نے یہاں خوب ڈیرے جمائے اور ملتان چونکہ اسلامی فتوحات کے نکڑ پر واقع تھا، اسی کو آگے کی تبلیغ کا مرکز بنایا۔ ملتان پورے برصغیر میں صوفیاء کے سفر کے دوران سرائے کی حیثیت سے مشہور ہوا۔ تب کے صوفیاء نے یہاں سے برصغیر میں اسلام کی دولت پھیلائی، اور اب انھی صوفیاء کے مزارات مخدوموں کی جیبیں دولت سے بھر رہے ہیں۔
مخدوم فلاں صاحب اور مخدوم فلاں شاہ، یہاں کی ضمنی پیداوار گردانے جائیں کہ جنھوں نے یہاں کے علاقے اور لوگوں پر حکمرانی قائم کی ہے۔ یہاں کی آبادی کا وہ حصہ جو دیہاتوں میں مقیم ہے وہ مخدومین کی زمینوں پر مزارعین ہے اور وہ آبادی جو ان کی جاگیر سے باہر بستی ہے، انھیں اولیاء کے مریدین کے نام پر اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔ یہاں کی سیاست شاہ جی سے شروع ہو کر گیلانی و قریشی پر ختم ہوتی ہے، ووٹ حقوق کے لیے نہیں بلکہ پیر صاحب کے لیے دیے جاتے ہیں۔ تو اب بتائیے، کیسی تبدیلی اور کہاں کا "انصاف"؟
جو مخدوم نہ تھے، صاحبو وہ سردار ہیں یا پھر نوابزادے۔ ان کا طریق واردات بھی مخدومین سے جدا نہیں ہے مگر چونکہ ان کو اولیاء کا دست شفقت میسر نہیں، اس لیے انھیں تھوڑی سختی ، یعنی اغوا، ڈاکے، لوٹ اور قتل وغیرہ جیسے قبیح طریقوں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ سردار اور نوابزادے اسی وجہ سے بدنام ہیں، ان کی ذاتی جیلیں مشہور ہیں اور ظلم کے قصے عام ہیں۔ مگر مخدومین، اللہ اولیاء کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، کہ جن کے نام کی مہربانی سے یہ ان قباحتوں سے پاک ہیں۔
ملتان کا حلوہ بھی ایک پیداوار ہے۔ کوئی مجھ سے کہے تو صاحبو اس کا گلہ بجا ہو گا کہ سوہن حلوے کا ذکر کاہے کو پہلے نہ چھیڑا۔ سوہن حلوہ، یہاں کا مشہور ہے اور جس بازار میں یہ بکتا ہے وہاں سوہن حلوہ خریدنے والوں کو کھوئے سے کھوا اچھلتا ہے۔ کئی اقسام کا حلوہ یہاں دستیاب ہے، جس کی شیرینی سے ہی یہاں کی مقامی آبادی اس تلخی کو ذائل کرتی ہے جو یہاں کے مخدومین، خوانین، سردار لوگ پھیلاتے ہیں۔ آم اور گرمی تو ارد گرد کے علاقوں میں بھی دستیاب رہتی ہے مگر حلوہ خاص ملتان شہر کی سوغات ہے۔ صاحبو، یہاں جو مخدوم نہیں اور جس کا خاندان نوابزادہ یا سردار بھی نہیں ، وہ حافظ ہے۔ قدم قدم پر آپ کو حافظ کے اصلی سوہن حلوے کے کھوکھے مل جائیں گے جن کے رجسٹرڈ نمبر ہی ان کی کوالٹی کا ثبوت ہیں۔ آخری بار جو حافظ کا اصلی حلوہ میں خرید لایا تھا اس کا رجسٹریشن نمبر تین سو ایک (۳۰۱) تھا، مگر چونکہ وہ بھی بیکار نکلا اس لیے اب میں صرف ریواڑی نامی غیر حافظ حلوے کا استعمال کرتا ہوں اور خوش رہتا ہوں۔ بس ایک غم سا ہوتاہے کہ یہ ریواڑی کچھ غیر اسلامی سا نام ہے، وگرنہ ملتان میں تمام مصنوعات کسی نہ کسی صورت مذہبی تبرک کے ریپر میں لپیٹ کر فروخت کی جاتی ہیں؛ جیسے اللہ ہو فرائی مچھلی، حافظ کا سوہن حلوہ، شمس تبریز ی تکے، صحرائے مدینہ کے آم ہی آم اور ہاشمی، قریشی اور گیلانی جیسے مخدوم سیاستدان وغیرہ وغیرہ۔
(جاری ہے)
تبصرہ کیجیے
تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں
خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔
خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔
بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
زندگی کی روح
لوگوں کی اکثریت جنھیں میں جانتا ہوں، دن میں سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، مگر مجھے رات کی تاریکی میں سفر پسند ہے۔ اس کے دو فائدے ہیں، ایک تو آپ باہر بھاگتے مناظر تاڑ کر اپنے آپ کو تھکن کا شکار نہیں کرتے اور دوسرا آپ اپنے تخیل میں ڈوب کر رہ سکتے ہیں۔ خاموشی تیسرا عنصر ہے جو مجھے سفر میں پسند ہے، اور ہمسفروں بالخصوص اجنبی لوگوں تک میری شناسائی صرف سلام دعا تک ہی رہتی ہے جو کہ اکثر" ایکس کیوز می" سے شروع ہو کر "تھینک یو "پر ختم ہو جاتی ہے۔
سفر میں خاموشی اور اپنی ہی دھن میں مست رہنا مجھے اتنا بھاتا ہے کہ اکثر اگر مجھے یہ جاننے کی حاجت ہو کہ ہم کس مقام سے گزر رہے ہیں تو بجائے پہلو میں براجمان شخص سے جاننے کے، میں باہر دوڑتے مناظر میں سے اچک اچک کر سائن بورڈوں کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سنگ میل جہاں ہوں تو سہولت ، ورنہ تیزی سے بھاگتے سائن بورڈوں کے آخر میں مقام کا نام تو ضرور ہوتا ہی ہے۔ شہروں سے گزرنا مجھے ایک ذرا نہیں بھاتا۔ وجوہات کئی ہیں، کہ ایک تو گاڑی کی رفتار کم ہو جاتی ہے، دوسرا ڈرائیور حضرات خواہ مخواہ ہارن بجاتے گزرتے ہیں اور تیسرا شہر مجھے میرے تخیل سے کھینچ کر باہر لاتے ہیں اور اپنی جانب متوجہ کر دیتے ہیں۔ ہر صورت میں شہر کے گزر جانے کے بعد، مجھے اپنے تخیل سے ربط قائم کرنے کو کچھ وقت ضرور درکار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، سفر کے دوران، چونکہ سو جانا میرا محبوب مشغلہ ہے۔ سفر میں نیند، آرام دہ ہر گز نہیں ہوتی مگر اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ رہتا ہے کہ آپ سفر کی اذیت اور منزل کے تمع سے محفوظ رہتے ہیں۔ اکثر جاگنا، گاڑی کے پریشر ہارن کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ شہروں میں ڈرائیور حضرات جا بجا ہوا میں بکھیر کر دندناتے پھرتےہیں۔ایسی صورت میں ، میں ہڑبڑا کر سیدھا ہوا اور باہر کی بھاگتی آبادی کے سائن بورڈوں کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں اور تاریکی میں ایسا کرنا سوہان روح بن جاتا ہے۔
فی الوقت توآپ صاحبان یہ جانیے کہ شہروں سے گزرنے کا تجربہ ہمیشہ مجھے اس فعل میں مصروف رکھتا ہے کہ میں اس شہر کی دکانوں، مکانوں وغیرہ کے سائن بورڈ پڑھ کر جانوں کہ ہم کہاں سے گزر رہے ہیں۔ ایک بار، کچھ دن پہلے ہی مجھے سفر کے دوران ایک خیال نے جنجھوڑ ڈالا کہ کیا فرق پڑتا ہے کہ میں یہ جانوں یا محروم رہوں کہ ہم کس مقام سےگزر رہے ہیں؟ ہماری منزل اہم ہے نہ کہ وہ سنگ میل جو ہم شہروں کی صورت میں متعین کرتے ہیں۔ مجھے احساس ہوا کہ میرا ہر گزرتے شہر بارے سطحی معلومات اکٹھی کرنا مجھے تکلیف دیتا ہے، میں سائن بورڈوں کا پیچھا کرتے کرتے تھک جاتا ہوں اور ہر گاؤں، قصبے، شہر کا اپنے آبائی علاقے سے موازنہ کرتا ہوں، اور پھر میری مقام بارے دلچسپی مجھے اس بات سے بھی محروم کر دیتی ہے کہ میں اس شہر کی زندگی کا مشاہدہ کروں، باہر چلتے پھرتے انسانوں پر توجہ کروں اور وہاں کی رواں دواں زندگی، اور کبھی کبھار رات کی خاموشی کو اپنے اندر سمو لوں۔ میں نے ایسا کبھی نہیں کیا، اور مجھے شدت سے محسوس ہوا کہ میں ایسا نہ کر کے کس طرح ایک نعمت سے محروم ہوں، آج تک کتنے ہی گاؤں، قصبے اور شہر گزار گیا اور کبھی بھی کسی بھی مقام کی زندگی کی حرکت نہ جانچ سکا۔
اس سفر میں، ابھی میں اسی خیال میں ڈوبا تھا کہ میرے خیالات کا ربط پریشر ہارن چھن کر کے توڑ گیا۔ ہم، ایک شہر میں داخل ہوا چاہتے تھے اوروہ شہر رات کے دو حصے گزار چکا تھا، اور میں نہایت مشکل سے اپنے آپ کو وہاں کے سائن بورڈ پڑھنے سے روک سکا۔
پہلا منظر ایک ہوٹل کا تھا، جہاں دو چار شخص بیٹھے اونگھ رہے تھے اور ان کے درمیان ایک شخص بیٹھا حقے سے شغل فرما رہا تھا۔ محسوس ہوا کہ وہ شخص ہوٹل کا مالک ہےجبکہ ارد گرد اونگھتے نوجوان، چھوٹے۔ وہ منظر زیادہ تر مشاہدے میں نہ رہا، مگر روایتی ہوٹلوں کی طرح ایک تھل جس پر دیگچے پڑے دکھائی دیے، اور باہر ایک انگیٹھی سلگ رہی تھی، جس پر توا جل رہا تھا اور اس پر گھی جلنے کا دھواں بلب کی روشنی میں اٹھتا دکھائی دیا۔ اتنی دور ہوتے ہوئے بھی، میں نے نتھنوں میں جلتے گھی کی مہک محسوس کی۔ بان کی چارپائی، چار چھ پلاسٹک کی کرسیاں، دو میزیں، بان کی چارپائیاں، چند دیگچے، دو ایک انگھیٹیاں، اور ہوٹل کے چھوٹے کل اثاثہ جات تھے، جن کے بل بوتے درمیان میں بیٹھا حقے سے شغل کرتا شخص مخمور بیٹھا تھا۔ میں سوچتا رہا کہ ان اثاثہ جات میں ہوٹل کے چھوٹے وہ اثاثہ تھے جنھوں نے اس شخص کی شان قائم کر رکھی تھی ورنہ مادے میں اتنی خاصیت کہاں کہ ایک شخص کو اس قدر جلا بخشے؟
میرا دھیان بٹ گیا، سائیکل پر ایک شخص بنیان پہنے رواں دواں تھا اور سائیکل کے کیرئیر پر ایک لڑکا ادھر ادھر تاڑ رہا تھا، اس کو بھی کرنے کو میری طرح کچھ بھی میسر نہ تھا۔ گاڑی کے اے سی کی پھیلائی ٹھنڈک کا احساس مجھے اس شخص کی بنیان سے ہوا۔ ایک لمحے کو میں حیران ہوا کہ یہ شخص بنیان پہنے کیوں گھوم رہا ہے؟ پھر احساس ہوا کہ دراصل بس سے باہر شدید گرمی ہے۔ اس معاملہ نے جیسے میرے اندر ہلچل مچا دی۔ میں سوچنے لگا کہ ہم انسان کس قدر احمق ہیں، ہم کیسے ایک ہی رخ سے اس ست رنگی دنیا کو دیکھنے کے ایکدم عادی ہو جاتے ہیں۔ ہم کیسے ایک ہی لمحے میں بیوقوفوں کی طرح صرف اس پر قناعت کر لیتے ہیں کہ ہمیں جیسا دکھائی دے رہا ہے، دنیا کا وطیرہ دراصل وہی ہے۔ میں جس ماحول میں موجود تھا، میرے خیال میں ساری دنیا میں ویسا ہی سرد ماحول ہے، ہر شخص اطمینان سے بیٹھا ہے اور ہرشخص فراغت سے موجود ہے۔ وہ شخص رات کے اس پہر نہ جانے کیوں سائیکل پر جا رہا تھا۔۔۔ کام سے لوٹ رہا ہو گا یا شاید رات کے اس پہر اس کی زندگی میں کچھ ہنگامی صورتحال ہے جس سے وہ نبٹنے جا رہا ہے۔
پھر ایک شخص میری نظروں کےحصار میں آیا۔ وہ شخص سڑک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والے سبزے پر سو رہا تھا۔ اس کو چھت میسر نہیں تھی، لیکن کیا اس کو خاندان بھی میسر نہیں؟ وہ اس شہر کا باسی ہے، یہاں کیا کر رہا ہے؟ دن بھر کیا کرتا رہا، صبح کو جاگ کر کیا کرے گا اور اب اسے کیا پرواہ ہے کہ اس کو اس باہر سڑک کے عین بیچ کتنے خطرات درپیش ہیں؟ وہ جو بھی تھا، اس وقت انتہائی اطمینان سے سویا پڑا تھا، بھاری بھرکم بسوں، ٹرکوں کے انجنوں کا شور، پریشر ہارن اور دنیا کا معاملہ اس پر کچھ اثر نہ کرتا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ یہ شخص کیا ہے؟ اسے فکر دنیا ہے؟ کیا اسے فکر ہے کہ وہ ہمارے جیسا ایک انسان ہے ، ہمارے جیسا جو اپنے دن رات اس سعی میں گزار دیتے ہیں کہ کیسے ہماری ناک اونچی رہے، یہ شخص کیسا عجیب شخص ہے جسے کچھ ثابت کرنے کی حاجت ہی نہیں؟ اس شخص کو میں صرف لمحہ بھر دیکھ پایا، بس کی اڑائی دھول اور تاریکی کی وجہ سے میں اس شخص کے چہرے کے تاثرات محسوس نہ کر پایا، مگر پھر بھی میں سوچتا رہا کہ اگر میں اس شخص کی جگہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ کیا میں بھی اتنا ہی مطمئن سو رہا ہوتا؟
میرا خیال تھا کہ یہ جو بستی تھی، وہ چھوٹی سی کوئی بستی ہو گی مگر وہ شیطان کی آنت کے جیسے بازار تھا، جو ختم ہونے میں نہ آتا تھا۔ شہر میں جیسے جیسے گاڑی آگے بڑھتی رہی میں اس شہر کے بارے سوچتا رہا، اس شہر میں بسے انسانوں کےبارے سوچتا رہا۔ دکانوں کی لمبی قطاریں۔۔۔ ہر دکان کے پیچھے سامان لدا ہو گا اور ہر دکان کو چلانے والا اپنے خاندان کے ساتھ کہیں اندرون شہر سو رہا ہو گا۔ نیند ایسی بلا ہے جس نے کروڑوں کی مالیت کو ایسے ہی چھڑوا دیا ہے اور سارا شہر اپنی کل املاک ایسے تاریکی میں چھوڑ کر بے غم سو رہا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے، جن املاک کے لیے سارا سارا دن یہ انسان دھوڑ دھوپ کرتا ہے، تھانے کچہری بھگتاتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دھوکہ دیتا ہے، ایمانداری سے پیش آتا ہے، منت کرتا ہے اور ترلے کرتے نہیں تھکتا۔۔۔ انھی املاک کو ایسے بیچ بازار تاریکی میں چھوڑ کر سو رہا ہے؟ کیسا تضاد ہے یہ، کیسی دنیا ہے یہ؟
یہ شہر بہت بڑا ہے، آہستہ آہستہ میری دلچسپی کم ہو رہی ہے۔ دھیان قائم رکھنے کو ایک اور شغل شروع کرتا ہوں۔ اس سڑک پر نظر آنے والے ہر اکا دکا شخص کو دیکھتا اور اس کی جگہ خود کو رکھ کر پرکھنا شروع کر دیتا۔ وہ چوکیدار کیا سوچ رہا ہے، یہ ویگن کے پہلو میں سویا شخص صبح کے بارے کیا جانتا ہے، کیا واقعی صبح اڈہ شروع ہونے پر اس کی ویگن اس کو کمائی کر کے دے گی؟ پتہ نہیں وہ شخص جو خراماں خراماں رواں تھا وہ اس پہر کو کیا کر رہا ہے یہاں۔۔۔ ہر شخص کیسے اپنی اپنی تکلیفیں، دکھ، سکھ، لائحہ عمل، منطق، نظریہ اٹھائے جی رہا ہے۔
پھر ایسا ہوا کہ اس شہر میں اس وقت ہر شخص، جو جاگ رہا ہے، جو سو رہا ہے، جو کھڑا یا جو بیٹھا ہے۔۔۔ ہر شخص مجھے اپنا آپ محسوس ہوا۔ ایک ہی لمحے میں یہ شہر کئی سارے عمر بنگشوں سے بھر گیا، وہ شہر جو چند لمحے پہلے میرے لیے اجنبی تھا، میرا شہر بن گیا۔ مجھے لگا، میں تمام انسانوں کو جانتا ہوں، میرا اور ان کا ایک تعلق ہے، ایک واسطہ ہے۔۔۔ کچھ ہے جو ہم میں سانجھا ہے۔ بھلے ہم مختلف لوگ ہوں، ذات جدا، پیشہ الگ، عمر یں تھوڑی یا زیادہ اور تجربہ کیسا بھی ہو، بھلے ہم اختلافات رکھتے ہوں، بھلے ہماری سوچ جدا ہو مگر کچھ تو ایسا ہے جو ایک ہے، میرا اور اس شہر کے ہر انسان کا خمیر ایک ہے، منبع ایک ہے، اصلیت ایک ہے ۔
صاحبو، بس رواں دواں رہی، مشاہدے کی فہرست طویل ہے۔۔۔ میں ایک کے بعد ایک انسان کو دیکھتا رہا، سوچتا رہا اور جانتا رہا۔ پہلی بار، اس شہر کے نام، ترتیب، اور دوسری معلومات نہ جان کر انسانوں کو سمجھنے کا موقع ملا۔ یہ عجیب بات تھی، جب گاڑی اس شہر کی حدود سے باہر نکل رہی تھی تو پہلی بار ایسا ہوا کہ میں اس شہر کے بارے سطحی معلومات کی بجائے اس شہر کی روح جانچ کر نکل رہا تھا۔ خاموش، تاریک رات میں، جب وہ شہر سارا سو رہا تھا، اس شہر کے انسانوں کو پتہ ہی نہیں چلا کہ کوئی شخص ان کے اندر تک گہرائی کو محسوس کر کے نکل گیا، اسے ہر کاروباری، ہر دکاندار، ہر مزدور اور ہر شخص کی زندگی کا حال جاننے کا شرف حاصل ہوا۔ پہلی بار، کسی شہر نے میرا، میرے تخیل سے رابطہ نہیں توڑا، بلکہ اسے مزید گہرا کر دیا۔
(شہر: فیصل آباد)
تبصرہ کیجیے
تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں
خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔
خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔
بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
جنوبی پنجاب میں۔۔۔: جنوب کا قضیہ
تبصرہ کیجیے
تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں
خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔
خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔
بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
مقدمہ نسوار
دنیا آج بھی مخمصے کا شکار ہے اور سمجھ نہیں پاتی کہ نسوار استعمال کرنے کو کیا نام دیا جائے؟ شراب نوش کی جاتی ہے، پان چبایا جاتا ہے اور بیڑی پی جاتی ہے مگر نسوار پر یہ الزام ہے کہ اسے کھایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نسوار کھائی ہی نہیں جا سکتی، اگر اسے کھائے جانے کی کوشش کی جائے تو کھانے والا شرطیہ اوندھے منہ اپنے معدے میں موجود سارا مواد واپس الٹ دے، اور پھیپھڑے صرف باہر کو ہوا پھینکیں۔۔۔ ایسا جانیے کہ اسے کھانے والے کا دل کھایا جاتا ہے۔ صاحبان کی معلومات کے لیے بتائے دیں اور رائے جانیں کہ نسوار استعمال کرنے کا عمل تین حصوں میں منقسم ہے؛ پہلے حصے میں جیب سے نسوار برآمد کر کے اس پر لپٹی "ربر بینڈ" اس احتیاط سے کھولی جائے کہ پلاسٹک کی گتھی کی شرررر ہوا میں بکھر جائے۔ دوسرے حصے میں پلاسٹک کی گتھی کے اوپر سے ہی خراماں خراماں ایک گولی تخلیق کی جائے اور تیسرے حصے میں اس گولی کو احتیاط سے اوپری یا نیچے والے ہونٹ اور جبڑے کے درمیان سجا دیا جائے۔ اب اس عمل کو کیا کہیے گا، ہمارے رائے میں کھانا تو ہر گز نہیں ہے۔
بات یہیں تک محدود نہیں، نسوار بارے ابھی تک اس کے صحیح مقام کا تعین بھی ممکن نہیں ہوا، اسے کہاں شمار کیا جائے؟ یہ نشہ آور اشیاء میں شمار ہو گی یا پھر اسے استعمال میں لانے والوں کے لیے صرف شغل کا سامان گردانا جائے۔ جو استعمال نہیں کرتے، ان کے لیے یہ اگر نشہ آور نہ بھی سہی، صحت کی بربادی کا موجب ضرور ہے۔ اور جو اسے استعمال کرتے ہیں ان سے اس بارے دریافت کرنا ہی فضول ہے۔
کہتے ہیں کہ نسوار استعمال کرنے کا اصل نشہ اس کی گولی بنانے میں ہے، منہ میں دبائے رکھنا تو بس اک رواج ہے۔ کہنے والے نے اپنی منطق کو ثبت کرنے واسطے مثال دی کہ لوگوں کو ایک دوسرے کو پان بنا کر پیش کرتے دیکھا ہو گا مگر آج تک ایک "نسواری" کو دوسرے "نسواری" کی جانب نسوار کی گولی اچھالتے نہیں پایا ہو گا۔ نسوار کی گولی بھی خوب شے ہے، لوگ اس کے حجم سے "نسواری" کی عادت کی تاریخ کا اندازہ لگاتے ہیں۔ سگریٹ نوش، وقت کے ساتھ سگریٹوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں اور "نسواری" وقت کے ساتھ اس کی گولی کے حجم میں۔
نسوار کے نشے آور ہونے بارے متضاد رائے ہیں، آج تک اس فتنہ پرور پر کسی مفتی کا فتویٰ سننے میں نہیں آیا مگر پھر بھی یہ بحث اکثر سماعتوں میں رس گھولتی ملتی ہے کہ آیا جیب میں نسوار کی پڑیا رکھ کر نماز ادا ہو جاتی ہے؟ حالانکہ دو ایک مولویوں کو ہم نے خود نسوار کی گولی اوپر کے جبڑے میں سجائے نماز تراویح کی امامت کرتے پایا۔
سیانے کہتے ہیں کہ نسوار کے اجزاء تین ہی ہیں؛ تمباکو، چونا اور پانی۔ تینوں میں سے ایک بھی نشہ آور شے کا خطاب سر لینے کو تیار نہیں۔ چونا اگر نشہ آور ہے تو صاحبو، فوجی چھاؤنیوں کے تمام درخت اور ٹرکوں اور جیپوں کے ٹائر ہر وقت نشہ میں دھت رہتے ہوں گے ، اور پانی اگر نشہ آور شے ہے تو شراب کشید کرنے کا فائدہ؟ رہا تمباکو تو اس بارے کچھ تسلی سے کہا نہیں جا سکتا۔ ایک "نسواری" سے دریافت کرنے پر عجب منطق سامنے آئی کہ، " سگریٹ اور نسوار میں فرق یہی ہے، نسوار میں آپ چرس بھر کر نہیں پی سکتے تو اس لحاظ سے نسوار صحت بخش شغل ہے"۔
(نسوار بارے اس تحریر کا موجب، یہ تحریر ہے)
تبصرہ کیجیے
تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں
خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔
خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔
بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اصول تجارت
تبصرہ کیجیے
تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں
خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔
خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔
بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
نچ او غلام نبی
اگر میں لوگوں کو اپنے خیالات میں گھسیٹ لاتا ہوں، اور اپنے ساتھ انھیں بھی تنقید کا نشانہ بناتا ہوں تو بے جا نہیں کرتا، مثلاّ میں زندگی کی دوڑ میں شریک ہوں تو اپنے ارد گرد کے جیتے جاگتے انسانوں کے مقابلے میں دوڑ رہا ہوں۔ اس دوڑ میں انھیں پیچھے چھوڑ دینے کی دھن میں جب منہ کے بل گرتا ہوں تو خود کو کوسنے نہیں دے سکتا، انھیں مورد الزام ٹھہراتا ہوں کہ وہ اتنا تیز کاہے کو بھاگ رہے تھے کہ میں ساتھ نہ دے سکوں اور دیکھو، اب منہ کے بل گر بھی گیا۔ ایسے ہی دوسری مثال سن لیجیے کہ مسجد کبھی کبھار جاتا ہوں کہ وہاں بیٹھے ایک انسان، جسے عرف عام میں مولوی صاحب یا پیش امام پکارا جاتا ہے، معاف کیجیے گا ، میں کوئی صابر شخص نہیں ۔۔۔ مسجد کی محفل سے میری رغبت میں کمی انھی صاحب کی عادات اور بیانات کا شاخسانہ ہے۔اب میرا خدا سے رابطہ کم ہے تو میں کل کلاں، قیامت کے روز مولوی صاحب کا گریبان پکڑنے کا متمنی ہوں۔
مولوی صاحب سے یاد آیا، اسلام میری زندگی میں داخل ہے۔ زندگی میں شاید میں بعد میں داخل ہوا ہوں، اسلام پہلے داخل ہو چکا تھا، مدعا یہ ہے کہ میں پیدائشی مسلمان ہوں اور میرے آباؤاجداد صدیوں سے اسلام کی مالا جپتے آ رہے ہیں۔ اسلام تو میری آنکھ کھلنے سے پہلے میرے نصیب میں داخل تھا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں ابھی تک اسلام میں داخل نہیں ہو پایا (ذاتی تسکین کے لیے سمجھتا ہوں کہ مکمل طور پر اسلام میں داخل نہیں ہو پایا)۔ ہاں تو اور کیا، اگر آپ پیدائشی کلمہ توحید پڑھنے اور خدا کی ذات پر صرف یقین رکھنے کو اسلام کہتے ہیں تو میں اسلام میں داخل ہوں ورنہ جو تعریف اسلام میں دخول کی مولوی صاحب کرتے ہیں۔۔۔۔ اللہ معاف کرے، مولوی صاحب سے متنفر رہنے کی یہ معقول وجہ ہے۔
مسئلہ صرف اتنا نہیں ہے کہ مجھے مولوی صاحب کی تشریح اسلام پر اعتراض ہے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ مولوی صاحب اپنی سمجھ کے مطابق میرے دماغ سے کھیل رہے ہیں۔ ہر گلی، ہر موڑ اور ہر مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے اپنی سمجھ کا اور اپنے ہی علم میں جکڑا اسلام نشر ہو رہا ہو تو بتائیے میں کہاں جاؤں؟
تبرک کے لیے نعمت اللہ کا حال سنتے جائیے۔ نعمت اللہ بیبا بندہ ہے، پیشے سے ڈرائیور اور انتہائی انکساری کا حامل۔ صابر اتنا کہ برا بھلا کہنے پر اف تک نہ کرے اور غیرت مند اتنا کہ ایک بار میں نے خود اسے ملاحظہ کیا ؛ وہ دو دن بھوک سے نڈھال رہا مگر مجال ہے کہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوں۔ خدمت میں اعلیٰ مقام رکھتا ہے، مثال دوں تو اس کے ساتھ سفر کرتے ہوئے بندے کو محسوس تک نہیں ہوتا کہ وہ سفر کی آزمائش سے دوچار ہے۔ لوگوں کی سنتا ہے، خدا پر یقین رکھتا ہے اور راہ سلوک کا داعی ہے۔ کسی پیر صاحب کے ہاتھوں بیعت کر چکا ہے اور اب ادھیڑ عمری میں پیر صاحب کی راہنمائی میں خدا کی خوشنودی پانے کو بے چین رہتا ہے۔ نعمت اللہ کا معمول ہے کہ پیر صاحب کی آمد پر خوب اہتمام کرتا ہے اور جان جوکھوں میں ڈالے رکھتا ہے کہ اس سے کوئی کوتاہی سرزد نہ ہونے پائے ۔ اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ ایسا موقع آ گیا کہ راہ سلوک کے رہنماء کی ناراضگی کے سبب ، خدا کی خوشنودی سے ہاتھ دھونا پڑ گئے تو وہ کہاں جائے گا۔ ۔؟ قصہ مختصر، وہ راہ سلوک میں مجاہدے کا قائل ہے۔
نعمت اللہ کا ایک واقعہ آج کل حلقہ احباب میں عام ہے۔ بیان ایسے ہے کہ نعمت اللہ اپنے پیر صاحب کی آمد پر کئی دوسرے مریدین کے ہمراہ باہر سڑک پر ٹھٹھر رہا تھا کہ وہاں اس کے دفتر کے ساتھی ڈرائیور کا گزر ہوا۔ ساتھی ڈرائیور کا کہنا ہے کہ نعمت اللہ سے حال احوال پوچھنے کو وہ لمحہ بھر رکا، تو اسی اثناء میں پیر صاحب کی آمد کا شور برپا ہوا۔۔۔ پیر صاحب جیسے ہی منظر عام پر واضع ہوئے تو ڈھول پر تھاپ پڑنی شروع ہوئی۔ جملہ مریدین حال برپا کرنے کو رقص میں مصروف ہوئے۔ موقع پر حال جاری ہو گیا اور مریدین میں سے ہر شخص ڈھول کی تھاپ پر دیوانہ وار رقص میں غرق ہوتا چلا گیا۔
ان دیکھے خوف میں مبتلا نعمت اللہ کی نظر اپنے ڈرائیور ساتھی پر پڑی، جو ایک جانب کھڑا مریدین کے رقص سے محظوظ ہو رہا تھا اور موقع پر پیر صاحب کے بعد دوسرا شخص تھا جو رقص کے مرکزی حال سے بے خبر اورجسے تمام افراد کے مشاہدے کا شرف حاصل تھا۔ نعمت اللہ چلایا، "نچ او غلام نبی، گناہ گار ہوندا پیا ایں۱"۔ (ناچ اے غلام نبی، گناہ گار ہو رہا ہے!")۔ اس کے بعد کے بیانات ہیں کہ غلام نبی قریباّ آدھے گھنٹے تک ناچتا رہا اور پسینے میں شرابور گھر پہنچا۔ غلام نبی جب بھی یہ واقعہ بیان کرتا ہے تو منہ بھر کر اپنی بیوقوفی پر قہقہہ برآمد کرتا ہے اور اس بیوقوفی کو سننے والا شخص قہقہہ اگر نہ بھی بلند کرے، بیوقوفی سنانے کے انداز پر ہنستا ضرور ہے۔
لیکن، اکثر میں نے غلام نبی بن کر سوچا ہے۔ غلام نبی کہتا ہے، کہ ناچنے کی دعوت پر اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، مگر گناہ کے خوف میں مبتلا ایک دوسرے انسان کا اسے گناہ گار ہونے کی وعید سنانے کا حال، اس کے اعصاب پر بجلی بن کر گرا۔ وہاں ہر شخص، گناہ کے خوف میں مبتلا روحانیت اور سلوک کے حال سے ناواقف تھا، ہر شخص خوف کے حال میں جی رہا تھا۔ غلام نبی نہ چاہتے ہوئے بھی، آدھ گھنٹہ صرف اس ڈر سے ناچتا رہا کہ، کیا خبر وہ نہ ناچ کر خدا کے کس طرز کے غصے کو دعوت دے رہا ہے؟ پیر صاحب بارے، غلام نبی خاموش ہے کہ اسے یہ خوف بچپن میں گھونٹ گھونٹ پلایا گیا تھا کہ بزرگ اور خاص طور پر وہ جو ولی اللہ کا دعویٰ کرے، سراسر بے ادبی ہے۔ خود کو آگ میں جھونکنے کے مترادف ہے۔
صاحبان، معذرت مگر یہ تسلسل سے جاری ہونے والی خوف کی زنجیر ہے، جس میں ہر شخص اپنا وقت، اپنی سمجھ کے مطابق خوف کی حد آنے پر بندھا چلا جاتا ہے۔ اس زنجیر کی ہر کڑی ہمیں ہر وقت خوف میں مبتلا رکھتی ہے اور یہ گناہ کا خوف ہمیں نیکی تو کجا، بدی کو بھی درست طریقہ سے برپا کرنے کے قابل نہیں چھوڑتی۔ میرا ماننا ہے کہ خدا کا خوف، انسان کو انسان بناتا ہے مگر یہ کیسا خوف ہے جو ہمیں انسان کہلانے کے قابل بھی نہیں چھوڑتا، ہماری سمجھ بوجھ گروی رکھ لیتا ہے؟
غلام نبی ناچ رہا ہے، ہر شخص کے گلے میں پڑا نظریات اور عقیدے کا ڈھول تھاپ پر تھاپ دے رہا ہے اور غلام نبی وحشیانہ انداز میں خوفزدہ، اس تھاپ پر ناچتا جا رہا ہے۔ ہم سب میں کہیں نہ کہیں، ایک غلام نبی ہر وقت گناہ کے ڈر سے ناچتا ہے۔ صبح و شام ناچتا ہے، جہاں کہیں سے اسے اپنے افعال، اپنی روزمرہ زندگی میں گناہ گار ہونے کی مہین بھر آہٹ محسوس ہوتی ہے، وہ ناچتا ہے۔ وہ اپنے افعال کی شکل میں ناچتا ہے، وہ مولوی صاحب کے خطبات کی روشنی میں ناچتا ہے اور وہ اپنی سمجھ کے بوجھ تلے ناچتا ہے۔
مسئلہ ناچنے کا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ جس خوف کے سائے تلے غلام نبی ناچ رہا ہے، وہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ غلام نبی ایک وقت آنے پر بے خوف ہو جاتا ہے۔ صاحبان، بے خوف شخص، سراسر شیطان ہوتا ہے۔ اس کی سمجھ بوجھ مستقل طور پر گروی رہ جاتی ہے اور وہ انسان نہیں رہتا، شیطان ہو جاتا ہے۔ وہ قتل کرتا ہے، وہ زنا کرتا ہے، وہ چوری کرتا ہے اور وہ ہر قبیح فعل کرتا ہے جن کے نتائج بارے سوچ کر ہم میں سے تقریباّ لوگ خوفزدہ رہتے ہیں۔
صاحبو! میں اکثر غلام نبی بن کر سوچتا ہوں، کہ خوف کا کچھ پیمانہ مقرر کروں، خود پر تنقیدی نظر ڈالوں کہ کہیں کل کلاں میں بے خوف ہو گیا تو مجھ سے بڑا شیطان اس دنیا میں کوئی دوسرا نہیں ہو گا۔ روز قیامت میں شیطان اور مولوی صاحب کے گریبان پیچھے بھاگوں گا اور خدا کے مقرر کردہ کارندے مجھے تلاش رہے ہوں گے، شیطان کو ڈھونڈ رہے ہوں گے۔
تبصرہ کیجیے
تبصرہ کرنے کے لیے، فیس بک یا بلاگر میں سے کسی ایک کا اتنخاب کریں
خیالات کا اظہار دلجمعی سے کریں۔
خیال رہے کہ آپکا تبصرہ کسی کی دل آزاری کا موجب نہ بنے۔
بلاگ کے مصنف کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔